کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں! ہم دو بہنیں اور تین بھائی ہیں ،والد مرحوم نے ترکہ میں دو گھر چھوڑے،ان کے انتقال کے بعد بھائیوں نے ان کو فروخت کرکےرقم آپس میں تقسیم کی، اور بہنوں کو کچھ نہیں دیا ،اب بڑے بھائی کا انتقال ہوا ہے ،کیا ہمیں بڑے بھائی کے ترکہ سے حصہ ملے گا یا صرف جو بھائی حیات ہیں ان کے ساتھ حصہ ملے گا، مذکوردوگھروں میں سے ایک گھر کے پیسے تینوں بھائیوں نے آپس میں تقسیم کیے اور ایک گھر کے پیسے صرف بڑے بھائی نے لیے جس کا انتقال ہوا ہے ،اب جو دو بھائی حیات ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ بڑے بھائی نے قسم کھائی تھی کہ ہم اس گھر کے پیسے کسی کو بھی نہیں دینگے ،کیا ان کی اس قسم کا اعتبار ہوگا اور ہم کو حصہ نہیں ملے گا؟
نوٹ:اس سلسلے میں تقسیمِ میراث کا مسئلہ فتویٰ نمبر(62447) ہم یہاں سے لے چکے ہیں ،لیکن اب ہمارے جو بھائی زندہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بڑے بھائی مرحوم نے قسم کھائی تھی کہ ہم اس گھر کے پیسے کسی کو بھی نہیں دینگے،تو کیا اس کے قسم کی وجہ سے ہمارا حصہ ختم ہوجائے گا اور ہم زندہ بھائیوں سے مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں ،اگر وہ ہمارا حق نہیں دیتے تو ہم کیا کریں اور ان کے لئے کیا حکم ہے۔
سائلہ کے والدِ مرحوم نے اپنےترکہ مذکور مکانات سمیت جو کچھ اپنی ملکیت میں چھوڑا تھا ،اس میں بیٹوں کی طرح سائلہ اور اس کی دوسری بہنیں بھی حصہ دار ہیں ،چنانچہ سائلہ کے بھائیوں کے لئے بہنوں کی اجازت و رضامندی کے بغیر ترکہ کے مکانات فروخت کرکے حاصل شدہ ساری رقم کو آپس میں تقسیم کرکے بہنوں کو ان کا شرعی حصہ نہ دینا ناجائز اور حرام عمل تھا،تاہم اگر سائلہ اور اس کی دوسری بہنیں مکانات کی فروختگی پر رضامند ہوں تو شرعاًیہ معاملہ درست قرار پائے گا ،البتہ موجود بھائیوں اور مرحوم بھائی کے ورثاء پر سائلہ اور اس کی دوسری بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دینا لازم اور ضروری ہوگا۔
جبکہ سائلہ کے مرحوم بھائی نے اگر چہ مکان کی رقم میں سے کسی اور کو حصہ نہ دینے کی قسم کھائی تھی لیکن اگر یہ ترکے کا مکان تھا تو بھائیوں کے ذمہ اس میں سے اپنی بہنوں کو حصہ دینا لازم اور ضروری ہوگا ، بڑے بھائی کے قسم کھانے کی وجہ سے بہنوں کو ان کے شرعی حصوں سے محروم کردینا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔(1/254)۔
وفیہ ایضاً: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه۔ (1/266)۔
وفی الدرالمختار و ردالمحتار: الإرث جبري لَايسْقط بالإسقاط۔(505 /7)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1