کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے شادی کی تھی ،اس نے اپنی بیوی کوطلاق دے دی تھی،اس سے نہ کوئی بچہ ہے،اور نہ کوئی بچی ہے،زید 2020میں وفات پا چکا ہے ،اس کی طلاق یافتہ بیوی نے دوسرے مرد سے شادی کر لی ہے،زید کی 2 سگی بہنیں ہیں،یہ دونوں زندہ ہیں ،اور پھوپھو بھی تھی جو کہ 2012 یا 2013 میں زید کی زندگی میں فوت ہو گئی تھی ،اس کے وارثان زندہ ہیں ،اور 2 خالہ ہیں ایک زندہ ہے،ایک فوت ہوچکی ہے ،ایک ماموں ہے جوکہ زندہ ہے ، اس کے علاوہ نہ کوئی چچا ،نہ کوئی تایا، نہ کوئی دوسرا رشتہ دار ہے۔
مذکور شخص کے ورثاء میں اگر واقعۃً فقط یہ دو بہنیں ہوں، اسکے علاوہ اس کا کوئی اور وارث ،(بیوی ،بچے، والدین، دادا ،دادی ،نانا ،نانی ،بھائی ،بھتیجے ،چچا ،چچازاد وغیرہ میں سے کوئی )نہ ہو تو مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،اس میں سے بالترتیب حقوقِ متقدمہ علی المیراث(کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں کی ادائیگی،اور بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنےکے بعد جو کچھ بچ جائے)اس کے کل دو(2) حصے بنائیں جائیں ، جن میں سے مرحوم کی ہر بہن کو ایک حصہ دیا جائے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1