السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حسین مرحوم کی وفات کو کافی عرصہ ہوچکا ہے ،اب اس کے ورثاء شرعی تقسیم کروانا چاہتے ہیں ،حسین نے وفات کے وقت اپنےورثاء میں ایک بیوی جس کا نام" دھیانی" ہے ، اور چار چچا زاد بھائی( نمبر ایک نور محمد ، نمبر دو محمد ہاشم ، نمبر تین گلڑ ملو ، نمبر چار خدا ڈنو ) اور اسی طرح چچازاد بھائی کی اولاد چھوڑی ہے، ان میں سے نمبر ایک ہارون ،نمبر دو گلاب ،نمبر تین عرس ،نمبر چار قاسم ، نمبر پانچ محرم ،نمبر چھ لکھی ، نمبر سات علی گوہر ہے، پھر کچھ عرصے کے بعد محمد ہاشم کی وفات ہوئی اس نے اپنے ورثہ میں ایک اپنی ماں ،ایک بیوی جس کا نام شائستہ ہے، اور اسی طرح دو بیٹے ایک کا نام حاکم علی ہے، دوسرے کا نام یوسف ہے اور دو لڑکیاں ایک کا نام اقصی اور دوسری کا نام اقراء ہے، چھوڑیں، اور تین بھائی چھوڑے ( 1نور محمد 2خدا ڈنو اور3 گلڑ ملو) پھر اس کے بعد نور محمد کی وفات ہوئی اس نے بھی اپنی ماں اور ایک بیوی جس کا نام فاطمہ ہے چھوڑی، اور پانچ لڑکے ایک کا نام علی محمد، دوسرے کا نام ولی محمد، تیسرے کا نام "دو دو " ، چوتھے کا نام چنیسر اور پانچویں کا نام علی وارث ہے اور ایک بیٹی چھوڑی، جس کا نام ماروی ہے اور دو بھائی چھوڑے ایک کا نام خدا ڈنوں ہے اور دوسرے کا نام گلڑ ملو ہے ،شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں یہ واضح فرمائیں کہ کن حضرات کو شرعی حصہ ملتا ہے اور کن حضرات کو شرعی حصہ نہیں ملتا، واضح طور پر بیان فرمائیں آپ کی عین نوازش ہوگی۔
صورتِ مسئولہ میں حسین مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،اس میں سے بالترتیب حقوقِ متقدمہ علی المیراث(کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں اور حق مہر کی ادائیگی اور بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل ) کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل(8448)حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کی بیوہ(دھیانی) کو (2112)حصے ،چچا زاد بھائیوں (گلڑ ملو ،خدا ڈنو ) میں سے ہر ایک کو (1584)حصے ،مرحوم کی چاچی (ہاشم کی والدہ ) کو (528)حصے ،ہاشم کی بیوہ (شائستہ ) کو (198) حصے ،ہاشم کے دونوں بیٹوں (حاکم علی ،یوسف )میں سے ہر ایک کو (374)حصے ،ہاشم کی بیٹیوں (اقصی ،اقراء ) میں سے ہر ایک کو (187)حصے ،نور محمد کی بیوہ(فاطمہ ) کو (198) حصے ،نور محمدکے پانچوں بیٹوں (علی محمد ،ولی ،دودو،چنیسر،علی وارث)میں سے ہر ایک کو (204) حصے ،اور نورمحمد کی بیٹی (ماروی )کو (102)حصے دیے جائیں،جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہورہا ہے ،مزید سہولت کیلیئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ۔
مسئلہ 4/16/786/8448 المضروب /6
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ (فاطمہ) چچا ذاد بھائی(نور محمد ) چچا ذاد بھائی(محمد ہاشم) چچا ذاد بھائی(گلڑ ملو) چچا ذاد بھائی(خدا ڈنو)
1 12/3
4 3 3 3 3
192 144 144 144
2112 1584 1584
مسئلہ 24/144/48 (محمد ہاشم) مف/3/1 المضراب/6
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
والدہ بیوہ(شائستہ) بیٹا(حاکم علی) بیٹا(یوسف) بیٹی(اقصی) بیٹی(اقراء)
4 3 102/17
24 18 34 34 17 17
264 198 374 374 187 187
مسئلہ 24/264/11 (نور محمد) مف144/6 الضروب/11
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
والدہ بیوہ(فاطمہ) بیٹا(علی محمد) بیٹا(ولی) بیٹا(دودو) بیٹا(چنیسر ) بیٹا(وارث) بیٹی(ماروی)
4 187/17
44 34 34 34 34 34 34 17
264 204 204 204 204 204 204 102
المبلغ/8448
الاحیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء
ورثاء عددی حصے فیصدی حصے
بیوہ (دھیانی) 2112 25%
چچا زاد بھائی(گلڑ ملو) 1584 18.75%
چچا زاد بھائی(خدا ڈنو ) 1584 18.75%
چاچی(ہاشم کی والدہ) 528 6.255
ہاشم کی بیوہ (شائستہ) 198 2.343%
ہاشم کا بیٹا(حاکم علی) 374 4.227%
ہاشم کا بیٹا(یوسف) 374 4.227%
ہاشم کی بیٹی (اقصی ) 187 2.213%
ہاشم کی بیٹی(اقراء ) 187 2.213%
نور محمد کی بیوہ(فاطمہ) 198 3.343%
نور محمد کا بیٹا(علی محمد ) 204 2.414%
نور محمد کا بیٹا(ولی ) 204 2.414%
نور محمد کا بیٹا(دودو) 204 2.414%
نور محمد کا بیٹا(چنیسر ) 204 2.414%
نور محمد کا بیٹا(وارث) 204 2.414%
نور محمد کی بیٹی(ماروی) 102 1.204%
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1