میراث کے متعلق مسئلہ معلوم کراناہے کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا،اسکے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور چار لڑکیاں مطلب بیٹیاں ہیں،تو اب میراث کیسے تقسیم ہوگی؟
مذکور شخص مرحوم کے ورثاء میں اگر فقظ یہی افراد موجود ہوں انکے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو تو مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو اسکی ادائیگی کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اُسکے بعد جو کچھ بچ جائے اسکےکل اسّی(80) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحوم کی بیوہ کودس(10)حصے،ہر ایک بیٹے کوچودہ(14)حصے اور ہر ایک بیٹی کو سات (7)حصےدیے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1