کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے انتیس سال پہلے ایک بچہ گود لیا تھا،اس کو رضاعی بیٹا بنایا،اپنے خاندان کا نام دیا ،نیشنل شناختی کارڈ ہمارے نام سے بناہوا ہے،کورٹ کے وارث نامہ میں بھی اس کے نام کااندراج ہے،اب وہ شادی شدہ اور بچوں والا ہے،ایک سال سے علیحدہ رہ رہا ہے،ہم سے کوئی تعلق نہیں رکھا ہوا،میری تین بیٹیاں ہیں،صرف ایک کی شادی ہوئی ہے،اور ہمارا کوئی محرم سرپرست بھی نہیں ہے،مسئلہ یہ پوچھنا ہےکہ مذکور لے پالک لڑکا میرے مرحوم شوہر کی جائیداد میں شرعی طور پر وارث ہے یا نہیں؟کیونکہ مجھے اپنی بیٹیوں کے مستقبل کو محفوظ کرتے ہوئے جائیداد کا فیصلہ کرنا ہے۔
سائلہ اوراس کے شوہر کا مذکور لڑکے کو لے پالک بنانا تو درست تھا،لیکن سائلہ کے شوہر کیلئے قومی شناختی کارڈ وغیرہ دیگر سرکاری کاغذات میں اس کی ولدیت کے خانہ میں حقیقی والد کے بجائےبطور والد اپنا نام لکھوانا شرعا ناجائز وحرام تھا،تاہم اس کے باوجود بھی مذکور لے پالک بیٹا شرعا سائلہ اور اس کے شوہر کا حقیقی بیٹا نہیں بنا،چنانچہ عدالتی وراثت نامہ مین مذکور لے پالک کا نام بطور وارث درج کرانے کے باوجود وہ سائلہ کے مرحوم شوہر کے ترکہ میں شرعا حصہ دار نہ ہوگا،بلکہ مرحوم کا ترکہ اس کے شرعی ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا،جس کا طریقہ کار بوقت ضرورت ورثاء کی تفصیل ذکرکرکے معلوم کیا جاسکتاہے۔
کما فی قولہ تعالی: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (الاحزاب،ایۃ:4)-
وفی الھندیۃ: فيبدا بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية(الی قولہ) ثم ذوي الارحام الخ (6/440)-واللہ اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1