میرے سسر (محمد شریف متوفی )کی تین شادیاں تھیں، پہلی بیوی ( فوت شدہ ) جس کے بطن سے دو بیٹے (عبدالغفور ، منظور احمد )اور،دو بیٹیاں(منظور بی بی، نذیر بی بی)زندہ حیات موجود ہیں، دوسری بیوی (طلاق شدہ )جس کے بطن سے ایک بیٹا(عبدالشکور) زندہ حیات موجود ہے ، تیسری بیوی (شمیم مائی) زندہ ہے جسکے بطن سے دو بیٹیاں (شمائلہ بی بی ، مہوش بی بی) زندہ حیات موجود ہیں، تقریباً 15 سال قبل پہلی بیوی کے بطن سے موجود اپنے بڑے بیٹے عبدالغفور، دو بیٹیوں (منظور بی بی ، نذیر بی بی )کی رضامندی سے تقریباً 12کنال اپنے دو بیٹوں منظور احمد ، عبدالشکور کے نام انتقال کروا دی، اور تقریباً 10 کنال جائیداد کا قبضہ بھی دونوں کو منتقل کر دیا، میرے سسر (محمد شریف )کابڑا بیٹا(عبدالغفور) بڑا اکھڑ مزاج، جھگڑالو ہونے کی وجہ سے بات بات پر اپنے والد سے لڑتا جھگڑتا ، نہایت سخت رویہ رکھتا تھا۔میرا سسر اپنی دو بیٹیوں یعنی(شمائلہ بی بی، مہوش بی بی) کو اپنی باقی جائیداد میں سے کچھ زمین کا انتقال و قبضہ منتقل کرنا چاہتا تھا، لیکن بیٹے (عبدالغفور) کے رویّے کی وجہ سے بہت خوف زدہ تھا، لہٰذا اُس نے اپنی موت سے تقریباً ڈیڑھ دو سال قبل بلا جبر و اکراہ ، ہوش و حواس و صحت تندرستگی کے ساتھ (بموجودگی گواہان، تیسری بیوی، بیٹیاں، داماد)چوری چھپے رقبہ 2کنال 6مرلے زمین اپنی دو بیٹیوں (شمائلہ بی بی، مہوش بی بی) کے نام انتقال رجسٹری کروا دیا، جبکہ قبضہ منتقل نہیں کیا تا کہ بڑے بیٹے (عبدالغفور) کو پتہ نہ چل جائے، اور وہ میرے ساتھ بُرا سلوک نہ کرے، کچھ عرصہ بعد میرا سسر فوت ہو گیا، فوتگی کے بعد جب (عبدالغفور )کو معلوم ہوا تو خاندان میں لڑائی جھگڑے ، مار پیٹائی وغیرہ وغیرہ شروع ہو گئی، جو تا حال جاری ہے، مختلف عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہیں، پولیس اسٹیشن میں FIR بھی ہو چکی ہےموجودہ صورتِ حال کے پیش نظر سوال یہ ہے کہ بوقتِ وفات (محمد شریف ، متوفی) کے قبضہ میں 8کنال 6 مرلے جائیداد موجود تھی، جبکہ محکمہ مال کے سرکاری کاغذات میں 4 کنال 10 مرلے تقریباً درج تھی۔ مندرجہ بالا صورتِ حال کے پیش نظر شریعت کے مطابق وراثت کی تقسیم کس حساب سے ہو گی ؟
واضح ہو کہ کوئی چیز کسی کے نام یا انتقال رجسٹری کردینے سے وہ شخص اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا، جب تک وہ چیز مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کے قبضہ میں نہ دے دی جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے سسر مرحوم نے اپنی جائیداد میں سے مذکور بیٹوں ”منظور احمد اور عبد الشکور“ کے نام 12 کنال زمین کرانے کے بعد فقط 10 کنال پر انہیں باقاعدہ مالکانہ کا قبضہ دے دیا ہو، بقیہ دو کنالوں کا قبضہ نہ دیا ہو، تو دونوں بیٹے قبضہ شدہ 10 کنال جائیداد کے مالک شمار ہوں گے،اور بقیہ دو کنال مرحوم کا ترکہ کہلائے گا، اسی طرح مرحوم نے اگر اپنی بیٹیوں (شمائلہ بی بی، مہوش بی بی) کے نام 2 کنال 6 مرلہ جائیداد رجسٹرڈ کرادی ہو مگر وفات سے قبل اس جائیداد پر انہیں مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو، جیساکہ سوال سے معلوم ہورہا ہے توفقط کاغذات میں رجسٹری کی وجہ سے شرعاً مذکورہ جائیداد ان بیٹیوں کی ملکیت شمار نہ ہوگی، بلکہ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، لہذا مرحوم کے انتقال کے وقت اس کے قبضہ میں مذکور 8 کنال 6 مرلہ جائیداد(اگرچہ محکمہ مال کے سرکاری کاغذات میں 4 کنال 10 مرلے ہوں) اور دیگر ترکہ تمام شرعی ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا لازم ہے، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے سسر مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل اسی(80) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ شمیم کو دس(10) حصے، اور مرحوم کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ(14) حصے، اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات(7) حصے دئیے جائیں، جیساکہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہورہا ہے، مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں۔
کما فی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.الخ(کتاب الھبۃ، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز ج4، ص378، ط: ماجدیۃ)۔
وفی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالایجاب والقبول وتتم بالقبض، صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالایجاب (إلی قولہ) وفی الدرر شرح الغرر قال الامام حمید الدین: رکن الھبۃ الایجاب فی حق الواھب، لأنہ تبرع فیتم من جھۃ المتبرع، أما فی حق الموھوب لہ فلا یتم إلا بالقبول، ثم لا ینفذ ملکہ فیہ إلا بالقبض الخ(المادۃ 837، ج 3، ص 344،345، ط: اسلامیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2