ترجمہ:السلام علیکم! میرا سوال وارثت کے حوالے سے ہے، ایک شخص کا انتقال ہوا،اور وہ اپنے پیچھے بیوہ، بیٹا اور بیٹی چھوڑ گیا (مرحوم کے والد اور والدہ دونوں فوت ہو گئے تھے ) اس کی بیوہ نے دوسرے شخص سے شادی کر لی اور اس کے (2)دو بیٹے ہیں اور بیوی بھی فوت ہو گئی ، اب سوتیلے بھائیوں اور دوسرے شوہر کا پہلے شوہر کی جائیداد میں کوئی حصہ ہوگا یا نہیں؟ شکریہ
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق مذکور شخص کے انتقال کر جانے کے بعد اسکی بیوہ نے اگرچہ دوسری شادی کی تھی ، تب بھی شرعاً وہ اپنے مرحوم شوہر کے ترکے میں اپنے شرعی حصے کے بقدر حقدارتھی، اور اب چونکہ بیوہ کا بھی انتقال ہو چکا ہے، اس لئے اسے اپنے مرحوم شوہر کے ترکے میں سے ملنے والا حصہ اسکے دوسرے شوہر اور تمام بیٹوں اور بیٹی میں تقسیم ہوگا ، جس کا طریقۂ کار بوقتِ ضرورت مکرر سوال کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے، لہٰذا مرحومہ کا دوسرا شوہر اور اسکے بیٹے، مرحومہ کے توسط سے اسکے مرحوم شوہر کے ترکے میں شرعاً حصہ دور ہونگے۔
کما فی تفسير ابن كثير : و لكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين و لهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين (الی قوله) يقول تعالى : و لكم - أيها الرجال - نصف ما ترك أزواجكم إذا متن عن غير ولد ، فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد ] وصية [ يوصين بها أو دين ۔ اھ (2/229)۔
و فی البسوط : }قال - رحمه الله – { و إذا مات الرجل و لم تقسم تركته بين ورثته حتى مات بعض ورثته فالحال لا يخلو إما أن يكون ورثة الميت الثاني ورثة الميت الأول فقط أو يكون في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول ۔ اھ (ج30/ص55)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1