ایک سال سے شوہر جیل میں ہے اور تیسری دفعہ گئے ہیں, اب بیوی خلع لینا چاہتی ہے ,لیکن وہ سائن نہیں کر رہا ،اور بیوی کو دوسری شادی کرنی ہے ،اگر شادی نہ ہو تو کیا وہ لونڈی کی حیثیت سے دوسرے مرد کے ساتھ رہ سکتی ہے؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ،لہذا مذکورعورت کا شوہر اگرچہ جیل میں ہو تب بھی اس کے لئے شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع لینا درست نہیں اور اس کی وجہ سے شرعاً اس کا نکاح ختم نہ ہوگا، چنانچہ اس کے لئے اس خلع کو بنیاد بنا کرکسی دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا،لہذا اگر میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو مذکور عورت کو چاہیئے کہ یک طرفہ طور پر خلع لینے کے بجائے ازخود یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے طلاق بالمال یاخلع کے ذریعے شوہر کو راضی کرکے اس سے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کرے البتہ اگر شوہر طلاق یا خلع کے لئے آمادہ نہ ہو اور مذکور عورت کے پاس نان و نفقہ کا کوئی انتظام نہ ہو اور شوہر کی طرف سے بھی نان و نفقہ کا انتظام نہ کیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں مذکور عورت نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر شرعی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے بذریعہ عدالت اپنا نکاح فسخ کراسکتی ہے۔
جبکہ شوہر سے طلاق اور خلع یا شرعی طریقہ کار کے مطابق بذریعہ عدالت اپنا نکاح ختم کرائے بغیر مذکور عورت کے لئے باندی کی حیثیت سے کسی اور شخص کے ساتھ رہنا قطعاً جائز نہیں جس سے اجنتاب لازم ہے۔
کما فی الحلیۃ الناجزۃ :"و المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمیر ما نصه : إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق أو طلق و إلا طلق علیه ، قال محشیه : قوله و إلا طلق علیه أي طلق علیه الحاکم من غیر تلوم(الی قولہ) و إن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي فقال ابن القاسم : لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها ، و قال ابن عبدالرحمن : لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهی و هو الذي تقضیه المدونة ؛ کما قال ابن المناصب ، انظر الحطاب ، انتهی ."(ص:73،ط:دارالاشاعت)-
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1