کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ مسمی محمد ہدایت خان فوت ہوگیا ہے اور اس کے ورثاء میں بیوی ، 6 نرینہ بچے اور ایک بیٹی حیات ہیں ۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ مسماۃ شمالہ بیگم بیوہ ، محمد حمایت ، عبد اللہ ، محمد ہارون ، حبیب اللہ ، محمد عطاء اللہ خان ، محمد رحیم اللہ خان پسران و ثناء دختر ہیں ۔ وراثت کی تقسیم کا طریقہ کار بتلایا جائے ۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم محمد ہدایت خان کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو ، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1 ) کی حد تک اس پر عمل کر کے اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سو چار (104 ) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو تیرہ ( 13 ) حصے ، جبکہ چھ بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ ( 14 ) حصے ، اور بیٹی کو سات ( 7 ) حصے دیے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1