وضو

اگر فقط موزے اترے جائیں تو ازسرنو وضوء کرنا لازم ہوگا؟

فتوی نمبر :
69349
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

اگر فقط موزے اترے جائیں تو ازسرنو وضوء کرنا لازم ہوگا؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید غسل کے بعد موزے پہنتا ہے پھر وہ سو جاتا ہے پھر جاگ کر نماز کے لئے نیا وضو بناتا ہے، وضو میں موزوں پر مسح کرتا ہے پھر کسی عذر کی بنا پر موزے نکال دیتا ہے اور بغیر موزوں کے نماز پڑھتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا زید کا وضو باقی ہے یا دوبارہ وضو کرنا لازم ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں کامل طہارت پر موزے پہننے کے بعد اگر زید نےوضو کی حالت میں فقط موزے اتارے ہیں ، اس دوران وضو توڑنے والا کوئی عمل درپیش نہ ہوا ہو ، تو ایسی صورت میں زید کا صرف پاؤں دھونا کا فی ہوگا ، پورا وضو دوبارہ کرنا لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : (و منها) نزع الخفين ؛ لأنه إذا نزعهما فقد سرى الحدث السابق إلى القدمين ، ثم إن كان محدثًا، يتوضأ بكماله ، و يصلي ، و إن لم يكن محدثًا يغسل قدميه لا غير ، ولايستقبل الوضوء۔(1 / 12)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69349کی تصدیق کریں
0     1202
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات