السلام علیکم !
مجھے ایک مسئلہ پر آپ کی رہنمائی چاہیئے ، میرے نانا کی جائیداد ہے ، وہ ان کی وفات کے تقریباً چالیس(40) سال بعد فروخت ہورہی ہے ، وہ مسلسل چالیس سال سے میرے ماموں کے استعمال میں رہی ہے ، جس کا کرایہ بھی وہ لوگ لے رہے ہیں اور ایک دکان میں اپنا کاروبار بھی کر رہے ہیں، اب وہ جائیداد فروخت کر رہے ہیں ، لیکن سب ماموں کہہ رہے ہیں کہ میری ماں کا انتقال نانا کی وفات کے اڑتیس (38 )سال بعد ہوگیا تھا اور میرا کوئی بھائی نہیں ہے ، اس لئے ہمیں حصہ کم ملے گا ہمیں باقی بہنوں جتنا حصہ نہیں ملے گا , کیوں کہ ہماری والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ہے اور بھائی بھی نہیں ہے ، بس ہم تین (3) بہنیں ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ چالیس (40) سال جو جائیداد ان کے استعمال میں رہی ہے، اس کے انتظام پر خرچ ہونے والے پیسے کاٹ کرہمیں حصہ ملے گا ، براہِ مہربانی اس بارے میں ہماری رہنمائی کریں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے نانا کے انتقال کے فوراً بعد ان کا ترکہ تمام ورثاء میں تقسیم کردینا چاہیئے تھا ، تا کہ بعد میں کسی قسم کا تنازع اور بدمزگی پیدا نہ ہوتی ، تاہم سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور واقعۃً ترکہ کے مکان وغیرہ سے حاصل ہونے والا کرایہ ورثاء میں تقسیم کرنے کے بجائے بیٹے از خود استعمال کرچکے ہوں تو ان کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں ، بلکہ اب تک جو کرایہ حاصل کیا ہے وہ پوری رقم ترکہ میں شامل کر کے ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہے ، البتہ اگر سائلہ کے ماموں نے تمام ورثاء کی باہمی رضا مندی سے مذکور مکان کی تعمیر وغیرہ پر رقم خرچ کی ہو اور مذکور خرچ کردہ رقم ترکہ سے منہا کرنے کی صراحت کی ہو تو اب تقسیم سے قبل ان کے لئے مذکور رقم منہا کرنا شرعاً جائز ہے ، اور اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر دوبارہ ای میل کردیں ، ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا ، صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائلہ کا کوئی بھائی نہیں ہے ، اس لئے سائلہ کی والدہ کو ملنے والے شرعی حصہ میں سائلہ کے ماموں بھی اپنے حصصِ شرعیہ کے بقدر حق دار ہوں گے۔
جبکہ شرعی تقسیم کا طریقہ کار معلوم کرنے کے لئے ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کرحکمِ شرعی معلوم کرلیا جائے۔
کما فی شرح المجلة : شرکۃ الملک ھی کون الشیء مشترکا بین اکثر من واحد ای مخصوصاً بھم بسبب من اسباب التملک کالاشتراء و الاتھاب و قبول الوصیۃ و التوارث او بخلط (الیٰ قولہ) تقسیم حاصلات الاموال المشترکۃ فی شرکۃ الملک بین اصحابھم بنسبۃ حصصھم اھ (ص/204)۔
و فی الھندیة : و في المنتقى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته و لا أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارا و هما فيها ساكنان و كذلك للولد الكبير ، كذا في الذخيرة اھ(4/380)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1