السلام علیکم جناب مفتی صاحب ! بعد از سلام عرض ہے کہ مجھے ایک فتویٰ کی ضرورت ہے ، میرے تایا مسمیٰ عبد العزیز کے نام پر ایک”21 ایکٹر “ زمین جو کہ حب بلوچستان میں واقع ہے ، میرے تایا (عبد العزیز) کے انتقال کے وقت میرے تایا کے والدین یعنی میرے دادا ، دادی انتقال کر چکے تھے ، میرے تایا شادی شدہ نہیں تھے ، اس لئے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی اور ان کے انتقال کے وقت اُن کے آٹھ چھوٹے بہن بھائی تھے ، جن میں دو بھائی اور چھ بہنیں تھیں ، (بھائیوں کے نام : عبدالانیس ، انجم خالد اور بہنوں کے نام : ازرہ اسلم ، ثمینہ احمد ، ثریا امین ، صبیحہ نثار ، بشریٰ ثاقب ،مسرت حمید)اسکے بعدمیرے والد عبدالانیس کا انتقال سن2007ء میں ہو گیا تھا اور ان کی بیگم یعنی میری والدہ ان کا انتقال سن 2018ء میں ہو گیا تھا ، میرے والد کے مجھ سمیت تین بچے ہیں ، (ایک بیٹا حماد اور دوبیٹیاں ہنیہ اور فریحہ)پھرمیری پھوپھی مسرت حمید کا انتقال سن 2016ء میں ہو گیا تھا اور ان کی شادی نہیں ہوئی تھی ، یہ زمین اب فروخت کی جا رہی ہے ، مجھے یہ شرعی فتویٰ حاصل کرنا ہے کہ اس مذکورہ (21 ایکٹر) زمین میں مندرجہ بالا وارثین کا شرعی حصہ کتنا بنے گا ؟ میں امید کرتا ہوں کہ آپ میرے اس مذکورہ مسئلہ کو جلد از جلد حل فرما کر مجھے شکریہ کا موقع دیں گے۔
نوٹ : سائل کے نانا حیات ہیں، البتہ نانی پہلے انتقال کر گئی تھیں۔
سائل کے تایا مرحوم مسمیٰ عبد العزیز کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اسطرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا،چاندی ، زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اُس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) حصے کی حد تک اُس پر عمل کریں، اُس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (6720) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحوم کے بھائی(انجم خالد) کو(1536)حصے ، ہر ایک بہن کو (768) حصے،بھتیجے(حماد انیس)کو(658)حصے،ہر ایک بھتیجی(ہنیہ اور فرحیہ) کو(329) حصے اور مرحوم عبدالانیس کی بیوہ مرحومہ کے واسطہ سے مرحومہ کے والد کو(28) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1