کیا فرماتے ہیں علماءِ دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے متعلق کہ دو بھائی تھے1۔ احمد 2۔ غازی احمد ۔پہلے احمد کی شادی ہوئی اُن سے ایک بیٹا ہوا (نورانی) پھر احمد فوت ہوگئے، انکی بیوہ سے غازی احمدکی شادی ہو گئی، اُن سے ایک بیٹا ہوا(غلام نبی ) پھر غلام نبی سے پانچ اولاد ہوئیں، (تین بیٹے دو بیٹیاں) اور نورانی کچھ معذور اور مجذوب قسم کے بزرگ تھے شادی نہیں کی تھی،فقیر محمد صاحب ( جو احمد اور غازی احمد کے والد تھے ) کی تقریباً 200 کنال زمین تھی جس میں سے 100 احمد کو ملی اور100 غازی احمد کو، غازی احمد نے نورانی یعنی اپنے بھتیجےوسوتیلے بیٹے سے سب کے سامنے کہا کہ نورانی! میں نے اپنا سب سے چھوٹا پوتا آپ کو دیا، گویا کہ یہ آپ کا بیٹا اور وارث ہے،نورانی نے کہا درست ہے، یہ گواہ وغیرہ سب کے سامنے کی بات ہے، پھر نورانی نے اپنے سب سے چھوٹے بھتیجے (جو اس کے حصے میں تھا ) کو موت سے چند دن پہلے بلاکر کہا کہ فلاں دن (اتوار) کو ہماری روانگی ہے اور آج جمعہ ہے کل ہفتہ کو بات چیت بند ہو جائےگی سوائے ذکر اللہ کے، تو میری خواہش یہ ہے کہ میری روح آپ کی گود میں نکلے اور میرا وضو، غسل اورکفن آپ (یعنی چھو ٹا بھتیجا) ساتھ شامل ہو کر کرو پھر اسی طرح کیا گیا مگرکاغذی کارروائی میں زمین و جائیداد وغیرہ کی لکھت پڑھت وغیرہ نہیں ہوئی، نوارانی کے انتقال کے وقت غلام نبی حیات تھے، البتہ بعد میں وہ بھی انتقال کر گئے،اب سوال یہ ہے کہ کیا نورانی صاحب کے وراثتی زمین میں اس بھتیجے کا حصہ ہوگا زبانی قول و قرار سے یا نہیں ؟ یا لکھنا پڑھنا بھی ضروری تھا؟ شرعی حکم کیا ہے ؟
واضح ہو کہ لے پالک (منہ بولا بیٹا) شرعاً وراثت کا حقدار نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ مسمیٰ نورانی کے انتقال کے وقت ان کا اخیافی ( ماں شریک) بھائی (غلام نبی ) موجود تھا، لہذا اخیافی بھائی اور چچازاد ہونے کی جہ سے مسمیٰ نورانی کی تمام تر وراثت کا حقدار مسمیٰ غلام نبی تھا، چنانچہ اس کے انتقال کی صورت میں اب اس کو ملنے والا حصہ اس کی تمام اولاد کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، لےپالک ہونے کی وجہ سے مذکوربھتیجے کو الگ سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
وفی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك۔اھ (7/284)-
وفی السراجی: واما لأولادہ الأمّ فأحوال ثلٰث، السدس للواحد۔اھ (ص:7)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1