احکام وراثت

لے پالک اولاد کی وراثت کا مسئلہ

فتوی نمبر :
69464
| تاریخ :
معاملات / ترکات / احکام وراثت

لے پالک اولاد کی وراثت کا مسئلہ

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے متعلق کہ دو بھائی تھے1۔ احمد 2۔ غازی احمد ۔پہلے احمد کی شادی ہوئی اُن سے ایک بیٹا ہوا (نورانی) پھر احمد فوت ہوگئے، انکی بیوہ سے غازی احمدکی شادی ہو گئی، اُن سے ایک بیٹا ہوا(غلام نبی ) پھر غلام نبی سے پانچ اولاد ہوئیں، (تین بیٹے دو بیٹیاں) اور نورانی کچھ معذور اور مجذوب‎ قسم کے بزرگ تھے شادی نہیں کی تھی،فقیر محمد صاحب ( جو احمد اور غازی احمد کے والد تھے ) کی تقریباً 200 کنال زمین تھی جس میں سے 100 احمد کو ملی اور100 غازی احمد کو، غازی احمد نے نورانی یعنی اپنے بھتیجےوسوتیلے بیٹے سے سب کے سامنے کہا کہ نورانی! میں نے اپنا سب سے چھوٹا پوتا آپ کو دیا، گویا کہ یہ آپ کا بیٹا اور وارث ہے،نورانی نے کہا درست ہے، یہ گواہ وغیرہ سب کے سامنے کی بات ہے، پھر نورانی نے اپنے سب سے چھوٹے بھتیجے (جو اس کے حصے میں تھا ) کو موت سے چند دن پہلے بلاکر کہا کہ فلاں دن (اتوار) کو ہماری روانگی ہے اور آج جمعہ ہے کل ہفتہ کو بات چیت بند ہو جائےگی سوائے ذکر اللہ کے، تو میری خواہش یہ ہے کہ میری روح آپ کی گود میں نکلے اور میرا وضو، غسل اورکفن آپ (یعنی چھو ٹا بھتیجا) ساتھ شامل ہو کر کرو پھر اسی طرح کیا گیا مگرکاغذی کارروائی میں زمین و جائیداد وغیرہ کی لکھت پڑھت وغیرہ نہیں ہوئی، نوارانی کے انتقال کے وقت غلام نبی حیات تھے، البتہ بعد میں وہ بھی انتقال کر گئے،اب سوال یہ ہے کہ کیا نورانی صاحب کے وراثتی زمین میں اس بھتیجے کا حصہ ہوگا زبانی قول و قرار سے یا نہیں ؟ یا لکھنا پڑھنا بھی ضروری تھا؟ شرعی حکم کیا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لے پالک (منہ بولا بیٹا) شرعاً وراثت کا حقدار نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ مسمیٰ نورانی کے انتقال کے وقت ان کا اخیافی ( ماں شریک) بھائی (غلام نبی ) موجود تھا، لہذا اخیافی بھائی اور چچازاد ہونے کی جہ سے مسمیٰ نورانی کی تمام تر وراثت کا حقدار مسمیٰ غلام نبی تھا، چنانچہ اس کے انتقال کی صورت میں اب اس کو ملنے والا حصہ اس کی تمام اولاد کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، لےپالک ہونے کی وجہ سے مذکوربھتیجے کو الگ سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك۔اھ (7/284)-
وفی السراجی: واما لأولادہ الأمّ فأحوال ثلٰث، السدس للواحد۔اھ (ص:7)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69464کی تصدیق کریں
0     828
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات