السلام علیکم !مفتی صاحب آپ سے گذ ارش ہے کہ والد صاحب کی جگہ ہے ، سو (100) گز ، جس میں سات (7)بھائی رہتے ہیں، وقتاً فوقتاً تین بھائیوں نے حصہ لے لیا ہے ، اب گھر میں چار بھائی رہتے ہیں ، 90 لاکھ کی پراپرٹی ہے ، اب جو بہنوں کو حصہ دینا ہے ،چھ بہنیں ہیں،اور سات بھائی ہیں ، ایک بہن کا انتقال ہو گیا ہے، اب ان کا کیا حصہ بنے گا ،اور بھائیوں کو جو حصہ دیا ہے ، وہ دوسرے بھائی نے دیا ہے ، اور اب جو بہنوں کو حصہ دے رہے ہیں ، وہ دوسرا بھائی دے رہا ہے ،اور جس طرح بھائیوں کو وقتاً فوقتاً حصہ ملا ہے ، اسی طرح بہنوں کو بھی حصہ دے رہے ہیں ،اور دو بہنیں بہت مجبور ہیں ، اگلے مہینے بچوں کی شادیاں کرنی ہے ،برائے مہربانی فرما کر جو بھی حق ہے، اس کا فیصلہ کریں۔شکریہ
نوٹ : مذکور پراپرٹی والد صاحب مرحوم کی ہے ،ہماری والدہ کا انتقال پہلے ہوا ، پھر والد صاحب کا انتقال ہوا ،پھر ایک بھائی کو ضرورت پڑی ،تو چھوٹے بھائی الطاف نے مارکیٹ ویلیو معلوم کرکے اس کو حصہ دے دیا ،پھر دوسرے بھائی اور اس کے بعد تیسرے بھائی کو ضرورت پڑی ،تو مذکور بھائی الطاف نے ان دونوں کو بھی مارکیٹ ویلیو کے مطابق حصے دے دیے ،اب میری دو بہنوں کو پیسوں کی ضرورت ہے ، لہذا اب میں مسمیٰ بابر اپنی بہنوں کو ترکہ کا حصہ دے دوں گا ، اور پھر کچھ وقت کے بعد دیگر بہنوں کو بھی اپنی سہولت کے مطابق حصہ دے دوں گا ، ا س معاملہ میں بہنوں سے بات ہوئی ،وہ اس طرح اپنا حصہ لینے پر راضی ہیں،اس طرح حصہ دینا درست ہے یا نہیں ؟ والد کے ورثاء میں سات بیٹے ،اور پانچ بیٹیاں حیات ہیں ، چھٹی بیٹی کا انتقال والدین سے پہلے ہو گیا تھا ۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل کے والدِمرحوم نے ترکہ میں جو مکان چھوڑا ہے ، اس میں سائل کی بہنیں بھی اپنے شرعی حصوں کے بقدر حقدار ہیں ،تاہم اگر سائل کی بہنیں مذکور مکان میں اپنے حصوں کے عوض رقم لینے پر بخوشی رضا مند ہوں،تو سائل کے لئے انفرادی طور پر ، یا مکان میں رہائش پذیر بھائیوں کے لئے اجتماعی طور پر انہیں ان کے حصوں کے عوض رقم لینا بلا شبہ جائز اور درست ہوگا ۔
کما فی الھندیۃ : و ركنها اجتماع النصيبين ، و حكمها و قوع الزيادة على الشركة بقدر الملك الخ ، و يجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور و من غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط و الاختلاط، كذا في الكافي.(2/301)۔
و فی الدر : ( و كل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته و لو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط) ، الخ (4/300) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1