السلام علیکم! ایک شخص کا انتقال ہو چکا ہے ، تر کے میں اس نے دس لاکھ روپے چھو ڑے ہیں ، اس کے ورثاء میں اس کی والدہ، اس کی بیوی ، ایک بیٹا اور دو (2)بیٹیاں ہیں، شریعت کے مطابق ہر ایک کے حصے میں کتنی رقم آئیگی ۔
نوٹ۔ مر حوم کی بیوی کی دوسری جگہ شادی ہو چکی ہے۔
مر حوم کی مذکورہ بیوہ اگر مرحوم کے انتقال کے وقت ، مرحوم کے عقد نکاح میں تھی ، مرحوم نے اسے کسی قسم کی کوئی طلاق وغیرہ نہ دی ہو، تو ایسی صورت میں اگر چہ مرحوم کی عدت گزار نے کے بعد بیوہ نے کسی دوسری جگہ نکاح کرلیا ہو، تب بھی وہ مرحوم کے ترکہ میں دیگر ورثاء کی طرح اپنے حصہ شرعیہ کی حقدار ہوگی
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کے ترکہ میں سے کفن دفن کے متوسط مصارف واجب الادا قرض کی ادائیگی اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کی بعد اگر یہی رقم (1000000) بچتی ہو اور مرحوم کے ورثاء بھی یہی ہوں ان کے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو، تومذکور رقم میں سے مرحوم کی بیوہ ایک لاکھ پچیس ہزار (125000)روپے ، والدہ کو ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزارچھ سو چھیاسٹھ (166666) روپے جبکہ بیٹے کو تین لاکھ چون ہزارایک سو چھیاسٹھ(354166) اور بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک لاکھ ستترہزار تریاسی(177083) روپے دئیے جائیں ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1