ایک عورت کا انتقال ہوا ورثاء میں ایک بیٹا ، تین بیٹیاں اور ایک ماں تھی اس وقت وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی اس کے بعد اس عورت کے شوہر نے دوسری شادی کرلی پھر تین سال بعد شوہر کا بھی انتقال ہوگیا دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں تھی ، دوسری بیوی نے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا , اس وقت جو کیش رقم تھی وہ دے دی تھی لیکن جائیداد وغیرہ سے انہیں کوئی حصہ نہیں دیا تھا پھر بعد میں انہوں نے انکار کردیا کہ مجھے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہیئے ، اور تین بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی شادی کے وقت وراثت کی رقم سے ہی جہیز دیا گیا اب انہوں نے انکار کردیا کہ مجھے اور کچھ نہیں چاہیئے ، اور شوہر کی پہلی بیوی کی والدہ کو جب بتایا گیا کہ آپ کا بھی اپنی بیٹی کی وراثت سے حصہ بنتا ہے تو انہوں نے صاف انکار کردیا کہ میری بیٹی نہیں ہے تو نواسوں سے کچھ نہیں لوں گی پھر زبردستی انہیں کچھ رقم دی گئی ، عرض یہ کہ اب اگر وراثت کی تقسیم کی جائے تو کس وارث کو کیا حصہ ملے گا ،اور جس جس نے معاف کیا ان کا کیا حکم ہوگا ۔برائے مہربانی جواب ارشاد فرمادیجئے ۔
1 ۔سائلہ کس کی تقسیمِ وراثت کے بارے میں معلوم کرنا چاہتی ہے ، مرحومہ بیوی کی وراثت کے بارے میں یا بعد میں انتقال کر جانے والے شوہر کی وراثت کے بارے میں ؟
2 ۔مرحومہ پہلی بیوی کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں کچھ ترکہ جائیداد ، کیش رقم ،وغیرہ موجود تھی ؟
3 ۔ مرحومہ بیوی کے والدہ کو کس کی جائیداد میں سے حصہ دیا گیا ہے ؟
4 ۔ دوسری بیوی کو اس کے شوہر کی جائیداد میں سے جو کیش رقم دی گئی تھی ، وہ اس کے حصۂ شرعیّہ کے بقدر تھی یا ویسے اندازے سے دی گئی تھی ؟، نیز وہ اب مزید حصہ کا مطالبہ کررہی ہے یا نہیں ؟
5 ۔ مرحوم کی جس بیٹی کو بطورِ جہیز ترکہ سے جو چیز دی گئی ہے تمام ورثاء عاقل بالغ تھے اور ان کی رضامندی سے دی گئی ہے یا نہیں ؟ ان سوالوں کے جواب کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1