احکام وراثت

حکومتی فنڈ کی تقسیم کا حکم

فتوی نمبر :
69571
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

حکومتی فنڈ کی تقسیم کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حاضرِ سروس ملازم ِسرکار فوت ہونے کی صورت میں اس کے واجبات بذمہ سرکار اس کے ورثا میں کیسے تقسیم ہوں گی؟
(1) پنشن
(2)گریجویٹی
(3)ایک سال کی تنخواہ
(4)گروپ انشورنس
(5)فوتگی کی امداد
(6)جی،پی فنڈ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکورحاضرِ سروس سرکاری ملازم کے فوت ہونے کی صورت میں گورنمنٹ کی طرف سے پنشن، گریجوٹی، گروپ انشورنس ، اس کی سال کی تنخواہ اورفوتگی کی امداد( Death grant ) وغیرہ کی مد میں جو رقوم اور مراعات مرحوم کے واسطہ سے ان کے پسماندگان کو ملتی ہے ، ان کا حکم درج ذیل ہے:
گریجویٹی ،پنشن اور فوتگی کی امداد (Death grant) :
پنشن ،گریجویٹی اورفوتگی کی امداد (Death grant) کے نام سےملنے والی رقم حکومت کی طرف سے مرحوم کے زیرِ کفالت افراد کے ساتھ تبرع اور احسان ہوتا ہے، اور اس نوعیت کے اموال کا ملازم چونکہ اپنی زندگی میں مالک بھی نہیں ہوتا،اس لئے اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہوں گے ، بلکہ حکومت یا متعلقہ ادارہ جس فرد کو بھی اس کیلئے نامزد کرے ، وہی اس کا مستحق ہوگا، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور حاضرِ سروس سرکاری ملازم کےفوت ہونے کی صورت میں گریجویٹی ،پنشن ورDeath grant کی مد میں ملنے والی رقم کا حقدار حکومت کی طرف سے اس کے ورثاء میں نامزد کردہ فرد (جیسے بیوی،بیٹا یا والدہ) ہوگا،دیگر افراد کا شرعاً اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
ایک سال کی تنخواہ:۔ مذکور حاضر سروس ملازم چونکہ اپنی زندگی ہی میں اپنی ملازمت کی تنخواہ کا مستحق اور حقدار ہوچکا ہے، اس لئے اس کی وفات کی صورت میں اس کی ایک سال کی تنخواہ ان کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
گروپ انشورنس:۔
گروپ انشورنس کی مد میں جمع ہونے والی رقم بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے اور اس کی دو صورتیں ہیں:
گروپ انشورنس جبری : اس میں ملازم سے اسکی رضامندی اور اختیار کے بغیر اسکی تنخواہ میں سے کچھ رقم کاٹی جاتی ہے، گروپ انشورنس کی جبری پالیسی کا حصہ بن جانے کی صورت میں اصل رقم مع اضافی پریمئم لینا شرعا ًجائز ہے۔
گروپ انشورنس اختیاری: اس میں ملازم کو پالیسی لینے پر مجبور نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ ملازم اپنے اختیار سے اسکا حصہ بنتاہے، اورچونکہ گروپ انشورنس بھی باقی انشورنس کی طرح سود ، قمار، یا غرر پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے ابتدائی طور پر اس پالیسی کا حصہ بننا شرعاً جائز نہیں ، البتہ اگر کوئی شخص گروپ انشورنس کا حصہ بنے تو ایسی صورت میں مذکور ملازم کے پسماندگان کیلئے محکمہ سے صرف اتنی رقم وصول کرنی چاہیئے جو اسکی تنخواہ سے کاٹی گئی ہو، بہر دو صورت گروپ انشورنس کی مد میں ملنے والی رقم مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اسکے تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق تقسیم کی جائیگی۔


جی پی فنڈ :۔
جی پی فنڈ بھی بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے، اور اس کی بھی گروپ انشورنس کی طرح دو صورتیں ہیں:
جبری کٹوتی : اس میں ملازم کی تنخواہ سے اسکی اجازت و رضامندی کے بغیر ہر ماہ کچھ مخصوص رقم کاٹی جاتی ہے۔
اختیاری کٹوتی: اس میں ملازم اپنے اختیار سے اپنی تنخواہ سے کٹوتی کرواتا ہے اور اگر ملازم اس کٹوتی کو منع کرے تو اسکی تنخواہ سے کٹوتی نہیں کی جاتی۔
چونکہ جی پی فنڈ خواہ جبری ہو یا اختیاری ، یہ ادارے کی طرف سے تبرع نہیں ہوتا ، بلکہ ملازم کی تنخواہ کا ہی حصہ ہوتا ہے اس لئے اگر ملازم دورانِ ملازمت انتقال کرجاتا ہے تو جی پی فنڈ کی مد میں ملنے والی رقم اسکا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور حاضرِ سروس سرکاری ملازم کو ملنے والا جی پی فنڈ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، جو دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائیگاالبتہ اگر مرحوم کی تنخواہ سے جی پی فنڈ کی مد میں رقم اس کے اختیار سے کاٹی جاتی تھی تو اب بہتر اور افضل یہ ہے کہ مرحوم کی تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم اور ادارے کی طرف سے ملائی جانے والی رقم کے علاوہ تیسری سودی رقم وصول نہ کی جائے ، اور اگر وصول کی گئی ہو تو اسے فقراء اور مساکین کو دیدی جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني)الخ۔
وفی الرد تحت: (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية الخ۔ ( کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 759، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط الخ۔ (کتاب الإجارۃ، الباب الثانی متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره، ج: 4، ص: 413، ط: ماجدیہ)۔
وفی الرد تحت: (قولہ كما بسطه الزيلعي) حيث قال لأنه كالمغصوب (إلی قولہ) وعلى هذا قالوا ‌لو ‌مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه الخ(کتاب الحضر و الإباحۃ، فصل في البيع، ج: 6، ص: 485، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69571کی تصدیق کریں
0     274
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات