کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حاضرِ سروس ملازم ِسرکار فوت ہونے کی صورت میں اس کے واجبات بذمہ سرکار اس کے ورثا میں کیسے تقسیم ہوں گی؟
(1) پنشن
(2)گریجویٹی
(3)ایک سال کی تنخواہ
(4)گروپ انشورنس
(5)فوتگی کی امداد
(6)جی،پی فنڈ۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورحاضرِ سروس سرکاری ملازم کے فوت ہونے کی صورت میں گورنمنٹ کی طرف سے پنشن، گریجوٹی، گروپ انشورنس ، اس کی سال کی تنخواہ اورفوتگی کی امداد( Death grant ) وغیرہ کی مد میں جو رقوم اور مراعات مرحوم کے واسطہ سے ان کے پسماندگان کو ملتی ہے ، ان کا حکم درج ذیل ہے:
گریجویٹی ،پنشن اور فوتگی کی امداد (Death grant) :
پنشن ،گریجویٹی اورفوتگی کی امداد (Death grant) کے نام سےملنے والی رقم حکومت کی طرف سے مرحوم کے زیرِ کفالت افراد کے ساتھ تبرع اور احسان ہوتا ہے، اور اس نوعیت کے اموال کا ملازم چونکہ اپنی زندگی میں مالک بھی نہیں ہوتا،اس لئے اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہوں گے ، بلکہ حکومت یا متعلقہ ادارہ جس فرد کو بھی اس کیلئے نامزد کرے ، وہی اس کا مستحق ہوگا، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور حاضرِ سروس سرکاری ملازم کےفوت ہونے کی صورت میں گریجویٹی ،پنشن ورDeath grant کی مد میں ملنے والی رقم کا حقدار حکومت کی طرف سے اس کے ورثاء میں نامزد کردہ فرد (جیسے بیوی،بیٹا یا والدہ) ہوگا،دیگر افراد کا شرعاً اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
ایک سال کی تنخواہ:۔ مذکور حاضر سروس ملازم چونکہ اپنی زندگی ہی میں اپنی ملازمت کی تنخواہ کا مستحق اور حقدار ہوچکا ہے، اس لئے اس کی وفات کی صورت میں اس کی ایک سال کی تنخواہ ان کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
گروپ انشورنس:۔
گروپ انشورنس کی مد میں جمع ہونے والی رقم بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے اور اس کی دو صورتیں ہیں:
گروپ انشورنس جبری : اس میں ملازم سے اسکی رضامندی اور اختیار کے بغیر اسکی تنخواہ میں سے کچھ رقم کاٹی جاتی ہے، گروپ انشورنس کی جبری پالیسی کا حصہ بن جانے کی صورت میں اصل رقم مع اضافی پریمئم لینا شرعا ًجائز ہے۔
گروپ انشورنس اختیاری: اس میں ملازم کو پالیسی لینے پر مجبور نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ ملازم اپنے اختیار سے اسکا حصہ بنتاہے، اورچونکہ گروپ انشورنس بھی باقی انشورنس کی طرح سود ، قمار، یا غرر پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے ابتدائی طور پر اس پالیسی کا حصہ بننا شرعاً جائز نہیں ، البتہ اگر کوئی شخص گروپ انشورنس کا حصہ بنے تو ایسی صورت میں مذکور ملازم کے پسماندگان کیلئے محکمہ سے صرف اتنی رقم وصول کرنی چاہیئے جو اسکی تنخواہ سے کاٹی گئی ہو، بہر دو صورت گروپ انشورنس کی مد میں ملنے والی رقم مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اسکے تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق تقسیم کی جائیگی۔
جی پی فنڈ :۔
جی پی فنڈ بھی بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے، اور اس کی بھی گروپ انشورنس کی طرح دو صورتیں ہیں:
جبری کٹوتی : اس میں ملازم کی تنخواہ سے اسکی اجازت و رضامندی کے بغیر ہر ماہ کچھ مخصوص رقم کاٹی جاتی ہے۔
اختیاری کٹوتی: اس میں ملازم اپنے اختیار سے اپنی تنخواہ سے کٹوتی کرواتا ہے اور اگر ملازم اس کٹوتی کو منع کرے تو اسکی تنخواہ سے کٹوتی نہیں کی جاتی۔
چونکہ جی پی فنڈ خواہ جبری ہو یا اختیاری ، یہ ادارے کی طرف سے تبرع نہیں ہوتا ، بلکہ ملازم کی تنخواہ کا ہی حصہ ہوتا ہے اس لئے اگر ملازم دورانِ ملازمت انتقال کرجاتا ہے تو جی پی فنڈ کی مد میں ملنے والی رقم اسکا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور حاضرِ سروس سرکاری ملازم کو ملنے والا جی پی فنڈ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، جو دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائیگاالبتہ اگر مرحوم کی تنخواہ سے جی پی فنڈ کی مد میں رقم اس کے اختیار سے کاٹی جاتی تھی تو اب بہتر اور افضل یہ ہے کہ مرحوم کی تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم اور ادارے کی طرف سے ملائی جانے والی رقم کے علاوہ تیسری سودی رقم وصول نہ کی جائے ، اور اگر وصول کی گئی ہو تو اسے فقراء اور مساکین کو دیدی جائے ۔
کما فی الدر: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني)الخ۔
وفی الرد تحت: (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية الخ۔ ( کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 759، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط الخ۔ (کتاب الإجارۃ، الباب الثانی متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره، ج: 4، ص: 413، ط: ماجدیہ)۔
وفی الرد تحت: (قولہ كما بسطه الزيلعي) حيث قال لأنه كالمغصوب (إلی قولہ) وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه الخ(کتاب الحضر و الإباحۃ، فصل في البيع، ج: 6، ص: 485، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1