ایک شخص جسکی پہلی بیوی کا انتقال ہوگیا،پہلی بیوی سے اس کی ایک بیٹی تھی، جسکی عمر 12 سال ہے،اس شخص نے دوسری شادی کی ، اس کی دوسری بیوی کا ایک بیٹا ہے ،جسکی عمر 14 سال ہے،شادی کو تقریباً 4یا 5 سال ہوگئے ہیں ،دوسری بیوی سے اس کی کوئی اولاد نہیں ہے،اب اس شخص کا انتقال ہوگیا ہے ،اس کی بیوی عدت میں اسی شخص کے گھر میں رہ رہی ہے،اس گھر میں اس شخص کے 2بھائی اور بھی رہتے ہیں ،کھانا پکانا الگ الگ ہے، کمپنی پر اس کے کچھ واجبات نکلتے ہیں، جو کہ کمپنی ادا کرنا چاہتی ہے،اس میں ہم آپ سے یہ رہنمائی لینا چاہتے ہیں کہ اس رقم پر شرعی حق کس کا ہے ؟
نوٹ:مذکور واجبات کمپنی کے کروائے ہوئے انشورنس کی طرف سے ملیں گے، اس انشورنس کا نام گروپ انشورنس ہے،کمپنی کا طریقہ کار اب تک یہ رہا ہے کہ رقم بیوہ کو دیتی ہے ،یا والدین کو جبکہ اس معاملہ میں بیوہ کی اس شوہر سے کوئی اولاد نہیں ہےاور بیٹی پہلی بیوی سے ہے۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کمپنی نے ملازم کی تنخواہ میں سے کٹوتی کرکے گروپ انشورنس میں رقم جمع کروائی تھی یا صرف اپنی طرف سے ہی رقم جمع کرائی تھی،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر شخص مذکور کی کمپنی نے مرحوم کی اجازت کے بغیر جبراً اس کی تنخواہ میں سے رقم کاٹ کر انشورنس کمپنی میں جمع کروائی ہو اور مذکور کمپنی،انشورنس کمپنی سے انشورنس کی رقم وصول کرکے اپنے مرکزی فنڈ میں جمع کرنے کے بعد رقم دے تو ملازم کے حق میں وہ رقم سودی نہیں،بلکہ سود کا گناہ کمپنی مالکان پر ہوگا اور اس صورت میں ملازم کی تنخواہ سے جتنی رقم کاٹی گئی ہو،اس رقم میں تو میراث جاری ہوگی اور وہ رقم تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی،البتہ اس کے علاوہ جو رقم ہے،اس میں میراث جاری نہ ہوگی،بلکہ ادارہ جس کو نامزد کردے،صرف وہی اس کا مالک وحقدار ہوگا،لیکن اگر یہ کٹوتی ملازم کی رضامندی سے ہوئی ہو یا براہ راست انشورنس کمپنی سے خود وصول کرنی پڑے تو اصل جمع کردہ رقم کے علاوہ جتنی بھی رقم وصول ہو ،وہ سود ہونے کی بناء پر شرعاً جائز نہیں ،بلکہ مذکور زائد رقم فقراء پر بنیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے،البتہ کمپنی نے اگر اپنی طرف سے بھی کچھ رقم جمع کرائی تھی تو اس رقم کا لینا شرعاً جائز ہے اور اس میں وراثت بھی جاری نہ ہوگی،بلکہ ادارہ جس کو نامزد کردے وہی اس کا حقدار ہوگا۔
قال اللہ تعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ الایة (البقرہ:278)۔
وفی الدرالمختار: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) اھ
وفی ردالمحتار: (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن التركه فی الاصطلاح ما ترکه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.
واعلم أنه يدخل في التركة الدية الواجبة بالقتل الخطأ أو بالصلح عن العمد أو بانقلاب القصاص مالا بعفو بعض الأولياء، فتقضى منه ديون الميت وتنفذ وصاياه كما في الذخيرة اھ (6/759)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1