کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ دین اس مسئلے کے بارے میں کہ اختر نواز مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنے والدین کی باہمی مشاورت اور رضامندی سے اپنے گھر کی اوپر کی چھت جو ایک سو میں گزہے ، بچیوں کے مدرسہ کے لئے وقف کردی تھی، بعد ازاں مخیر حضرات کے تعاون سے اس پر تقریباً تیرہ لاکھ کی مالیت کے خرچ سے مدرسہ کی عمارت تعمیر کی گئی،مدرسہ کا راستہ بھی نیچے گھر سے جدا ہے، اس عمارت کی تعمیر سے پہلے اور بعد ایک عرصہ تک مرحوم اختر نواز کے والدین میں سے کسی نے بھی وقف کا انکار نہیں کیا ، 28 اگست 2020 ء کو اختر نواز کا انتقال ہوا ، ان کے انتقال کے تقریباً دو ماہ بعد مرحوم اختر نواز کے والد اورنگزیب کی موجودگی میں ایک تحریر لکھی گئی جس میں واضح طور پر اس وقف کا تذکرہ موجود ہے ، کچھ عرصہ بعد مرحوم اختر نواز کے والد گرامی اورنگزیب کا بھی انتقال ہو گیا، ان کے انتقال کے کچھ مدت بعد مرحوم اورنگزیب کی جائیداد تقسیم کی جانے لگی، مرحوم کے دو بیٹے ،چار بیٹیاں ،ایک بیوہ، اور ان کے مرحوم بیٹے اختر نواز کی بیوہ، اور چار بیٹے موجود ہیں ۔
ازروئے شریعت مدرسہ کی وقف شدہ جگہ کو تقسیم جائیداد میں شمار کیا جائے گا یا نہیں ؟
مرحوم اورنگزیب کی وفات کے بعد ان کی بیوہ کا مدرسہ کے وقف سے انکار معتبر ہے یا نہیں ؟ کیا ان کا یہ کہنا کہ میں مدرسہ کا وقف نہیں مانتی ،وقف کو باطل کرسکتا ہے ؟
اگر وقف شدہ جگہ کو بھی تقسیم کردیا گیا تو کیا اس پر مخیر حضرات کی خرچ شدہ رقم کو منہا کیا جائے گا یا وہ ورثاء میں تقسیم ہوگی ؟
مرحوم اورنگزیب نے اپنی ملکیت میں کچھ جائیداد چھوڑی ہے اس کی تقسیم شرعی کیا ہوگی ؟ کیا مرحوم اورنگزیب کے ترکہ میں مذکور بلڈنگ بھی شامل ہے ؟ ورثاء میں مرحوم کی بیوہ،اختر نواز کے علاوہ دو بیٹے ،چار بیٹیاں ،اور مرحوم اورنگزیب کے مرحوم بیٹے اختر نواز کی بیوہ اور اس کے چار بیٹے موجود ہیں ۔
مزید وضاحت :مذکور پلاٹ جس پر اختر نواز نے گھر تعمیر کرکے اس کی چھت مدرسہ کیلئے وقف کردی ہے ،در اصل وہ پلاٹ اختر نواز کے والد اورنگزیب کی ملکیت تھی ،پھر اورنگزیب نے اپنی زندگی میں مذکور پلاٹ اختر نواز اور اس کے چھوٹے بھائی کو جہات کی تعیین کے ساتھ نام کرکے باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا ،اختر نواز اور اس کے چھوٹے بھائی نے مل کر اس پلاٹ پر گھر تعمیر کیا ،پھر باہمی رضامندی سے اس گھر کی چھت کو مدرسہ کیلئے وقف کردی تھی ۔
نوٹ :بیوہ اختر نواز کو دارالافتاء بلایا گیا وہ بھی اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ میرے شوہر مرحوم نے یہ فلیٹ اپنی زندگی میں ہی وقف کرکے مدرسہ کے حوالہ کیاتھا ،اور اس کا راستہ ،دروازہ ، نیچے کے پورشن سے بالکل الگ تلگ ہے ،اور گواہ محمد لغاری بھی اس بات کی تائید کرتا ہے ۔
سوال اور اس کے ساتھ درج وضاحتی نوٹ میں ذکرکردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،نیز منسلکہ کاغذات بھی مطابقِ اصل ہوں تو اس میں درج تفصیلات کے مطابق جب مرحوم اختر نواز کے والد اورنگزیب مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں پلاٹ (1924) باقاعدہ اپنے دونوں بیٹوں (اختر نواز اور اس کے چھوٹے بھائی ) کو ہبہ کرکے باقاعدہ مالکانہ حقوق اور قبضہ کے ساتھ دے دیا تھا ،اور اس کے بعد دونوں بھائیوں نے ذاتی سرمایہ سے اس پر مکان بھی تعمیر کرلیا تو اس پلاٹ سمیت یہ پوری بلڈنگ دونوں بھائیوں کی ذاتی ملکیت بنی ،اس میں والدین کا شرعاً کوئی حصہ باقی نہیں رہا ،لہذا مسمیٰ اختر نواز مرحوم نے جب اپنی صحت والی زندگی میں چھوٹے بھائی کی اجازت اور رضامندی سے اس بلڈنگ کی چھت مدرسہ کیلئے وقف کرکے چندہ کی رقم سے اس پر تعمیر بھی کرلی تو راجح قول کے مطابق یہ وقف شرعاً درست ہوچکا ہے اور اب تقسیمِ ترکہ کے وقت اس حصہ کو ترکہ شمار کرکے ورثاء میں تقسیم کرنا جائز نہیں ،لہذا مسمیٰ اختر نواز مرحوم کی والدہ کا اس وقف کی صحت سے انکار کرنے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے شرعاً وقف کی صحت متاثر ہوگی ،بلکہ وہ اپنے اس غیر شرعی رویہ کی وجہ سے گناہ گار ہورہی ہے ،اس لئے اسے اپنے اس غیر شرعی طرزِ عمل سے باز آکر کسی قسم کی رکاوٹ بننے سے اجتناب لازم ہے ،اسی طرح اس بلڈنگ کے وقف شدہ حصہ کے علاوہ بقیہ بلڈنگ مرحوم اختر نواز اور اس کے چھوٹے کے درمیان مشترک تھی ،اس لئے اب اس کے انتقال کے بعد اس کا آدھا حصہ مرحوم اختر نواز کے شرعی ورثاء میں اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگا ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم اور نگزیب کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے شرعی ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (64) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو (8) حصے ،ہر بیٹےکو (14) حصے اور ہر بیٹی (7) حصے دیے جائیں -
فی الدر المختار:(بنى على أرض ثم وقف البناء) قصدا (بدونها ان الأرض مملوكة لا يصح وقيل صح وعليه الفتوى) سئل قارئ الهداية عن وقف البناء والغراس بلا أرض؟ فأجاب: الفتوى على صحته ذلك ورجحه شارح الوهبانية وأقره المصنف معللا بأنه منقول فيه تعامل فيتعين به الإفتاء اھ (4/390)۔
وفی البحرالرائق:وفی المجتبیٰ لایجوز وقف البناء بدون الاصل ھو المختار اھ وفی الفتاوی السراجیۃ سئل ھل یجوز وقف البناء والغرس دون الارض اجاب الفتوی علی صحۃ ذلک اھ وظاھرہ انہ لافرق بین ان یکون الارض ملکا او وقفاً اھ (5/204)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1