السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، سوال یہ ہے کہ میں اپنی بیوی کو اس کے والد کی جائیداد میں حصہ لینے سے روک سکتا ہوں؟
واضح ہو کہ اولاد کے لیے وراثت میں حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہوا ہے، چنانچہ اگر کوئی بیٹا یا بیٹی اپنے مرحوم والدین کی جائیداد میں سے اپنا شرعی حصہ لینے سے انکار کردے یا اپنا حصہ معاف کردے تو اس انکار یا معافی کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، بلکہ اس کے باوجود دیگر ورثاء کی طرح وہ اپنا شرعی حصہ لینے کا حقدار ہوگا۔
لہذا سائل کے سسر کا اگر انتقال ہوچکا ہو تواس کے لیے بیوی کو اپنے مرحوم والد کی جائیداد میں حصہ لینے سے روکنا شرعاً درست نہیں جس سے احترازم لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ } [النساء: 11]
وفی قرة عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار: وفيهَا: وَلَو قَالَ تركت حَقي من الْمِيرَاث أَو بَرِئت مِنْهَا وَمن حصتي لَا يَصح وَهُوَ على حَقه، لَان الارث جبري لَا يَصح تَركه اهـ. (8/ 208)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1