کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کا انتقال ہوگیا اس کے ورثاء میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں موجود ہیں ، مرحومہ نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا ہے جس کی مالیت تقریباً 35 لاکھ روپے ہیں ، مرحومہ کے بڑے بیٹے نے اپنے بھائی اور بہنوں کو کہا کہ یہ مکان میں رکھتا ہوں تم سب کو حصہ جب جب تم لوگوں کو ضرورت ہوگی میں دے دوں گا ، ایک بھائی جس کا حصہ 8لاکھ 75 ہزار روپے تھا دیدیا اور ایک بہن کو اس کاحصہ 4لاکھ 37 ہزار پانچ سو تھا وہ قسطوں میں دیااس میں ابھی بھی 87 ہزار پانچ سو روپے دینے باقی ہیں ، اس بھائی نے وہ مکان کرایہ پر دیدیا ہے ، ہر ماہ 25 ہزار روپے کرایہ آتا ہے ، اس مکان کو کرایہ پر دئیے ہوئے تین سال کاعرصہ ہوگیا ہے تین سال کا کرایہ9 لاکھ روپے ابھی تک کمایا ہے، اب بھی تین بہنوں کاحصہ دینا باقی ہے تین سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود اس نے ان کاحصہ ادا نہیں کیا، اب پوچھنا یہ ہے کہ وراثت کے مکان پر جو یہ کاروبار کررہاہے 9 لاکھ روپے جو کھایا ہے کیا یہ منافع اس کےلئے جائز ہے یا اس منافع میں جن تین بہنوں کا حصہ اس نے ادا نہیں کیاہے اور ایک بہن جس کے ابھی 87 ہزار پانچ سو روپے باقی ہیں ان کا بھی حصہ ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر مرحومہ کے ورثاء میں سے ایک بیٹے نے اپنے باقی بھائی بہنوں کے حصوں کی قیمت لگا کر انہیں باضابطہ طور پر خرید لئے ہوں ( جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہورہاہے)تو ایسی صورت میں مذکور بیٹا ترکےکےمکان کا مالک بن چکاہے، اب اس میں مرحومہ کے دیگر ورثاء کا شرعاً کوئی حق نہیں ، چنانچہ مذکور نے مکان کو کرایہ پر دیکر جو رقم حاصل کی ہے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے، اس میں دیگر ورثاء حقدار نہ ہونگے ،البتہ مذکور بڑے بھائی نے ابتک جن ورثاء کے حصوں کی قیمت کی ادائیگی نہیں کی، اسکی ادائیگی انکےذمہ لازم اور ضروری ہے ، لہذا اس کو چاہیئے کہ جلد از جلد باقی ورثاء کے حصص کی قیمت آدا کرکے مواخذہ اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے ۔
کما فی الھدایة: البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي مثل أن يقول أحدهما بعت والآخر اشتريت(الی قولہ) وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.(3/23)۔
وفی الدر المختار: (وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن۔الخ
وفی الرد: فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي.(4/300)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1