ماں باپ کےانتقال کے بعد وراثت کب تقسیم کرنی چاہیے؟ مرحوم پہ اس کا گناہ ہو گا یا نہیں؟
واضح ہو کہ والدین کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ تمام ورثاء میں جلد از جلد حسبِ حصصِ شرعی تقسیم کردینا چاہیے، بلاوجہ اس میں ٹال مٹول سے کام لینا درست نہیں، بلکہ بسا اوقات ترکہ تقسیم نہ کرنے کی وجہ سے بعد میں بہت ساری پیچیدگیاں، مشکلات اور ایک دوسرے کے متعلق بدگمانیاں پیدا ہوجاتی ہیں اوربعض مرتبہ تو لڑائی جھگڑوں اور آپس کے اختلافات تک نوبت پہنچ جاتی ہے، اس لیے اولاد کو جلد از جلد اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیے، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے فی الحال ترکہ تقسیم نہ کرنا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
لیکن اگر ورثاء میں سے کوئی ایک وراث اپنے حصہ کا مطالبہ کرے، باقی ورثاء فی الحال تقسیم نہ کرنا چاہیں تو ایسی صورت میں ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر کسی بھی مستند دار الافتاء سے حکم شرعی معلوم کرکے اس وارث کا جتنا حصہ بنتا ہے، وہ دیدینا چاہیے، مطالبہ کے باوجود اس کو اپنا شرعی حصہ نہ دینا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: وأما سببها فطلب الشركاء أو بعضهم الانتفاع بملكه على وجه الخصوص كذا في التبيين. (5/ 204)
وفی الدر المختار: (وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها للعول (وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض.
في المجتبى: حانوت لهما يعملان فيه طلب أحدهما القسمة إن أمكن لكل أن يعمل فيه بعد القسمة ما كان يعمل فيه قبلها قسم وإلا لا. (6/ 260)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1