محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم ! جو لوگ شہر سے باہر اڑتالیس (48) میل سے زیادہ ملازمت کرتے ہیں اور کئی سالوں سے ملازمت کر رہے ہیں ، تو کیا جب وہ ہر دفعہ جب گھر سے ملازمت کے لئے نکلیں اور نیت واپسی کی پندرہ (15) دن سے کم ہو تو کیا وہ اپنی ملازمت کی جگہ پر جب اپنی نماز ادا کریں گے تو مسافر والی یعنی قصر نماز ہی ادا کریں گے ؟ اس سوال کا تحریری شکل میں فتوی مرحمت فرما دیں ، جزاک اللہ ! کیوں کہ میں نے اپنے جاننے والے ایک مفتی صاحب سے یہ مسئلہ پوچھ کر اپنے ساتھیوں کو بتایا ہے، لیکن کچھ لوگ اس بات کی تصدیق کے لئے تحریری فتوی دیکھنا چاہتے ہیں، جزاک اللہ۔
صورتِ مسئولہ میں جن ملازمین نے اگر اب تک جائے ملازمت میں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہ کی ہو تو وہ اپنی جائے ملازمت میں شرعاً مسافر شمار ہوں گے، لہذا جائے ملازمت میں اور دورانِ سفر اپنی انفرادی چار رکعت والی نمازوں میں قصر کرنا لازم ہے ، البتہ ایک دفعہ بھی اگر جائے ملازمت میں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کر لی تو اب وہ ان کا وطنِ اقامت کہلائے گا، پھر جب تک وہاں ملازمین کی اقامت اور رہائش کا ضروری سامان باقی رہے، تب تک وہ مقیم شمار ہوں گے اور تمام نمازیں مکمل اور پوری پڑھنی لازم ہوں گی، اگرچہ پندرہ دن سے کم کی نیت سے آئے ہوں۔
کما فی الفتاوی الھندیة: و لا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية (الیٰ قولہ) و لا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين و إلا لا يترخص أبدا اھ(1/ 138)۔
و فی بدائع الصنائع: و أما بيان ما يصير المسافر به مقيما: فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، و الإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة و هو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة و نية مدة الإقامة، و اتحاد المكان و صلاحيته للإقامة اھ (1/ 97)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4