،کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجۂ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوگیا ، اس کے والدین اور دو ( 2 ) بیویوں کا پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے ، مرحوم کے ورثاء میں صرف دو ( 2 ) بیٹے موجود ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ شخص ِ مذکور کا ترکہ ان کے موجود ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟
مرحوم " محمد آصف خان " کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں س طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی، زیورات ، نقدرقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، ان میں سے سب سے پہلے مرحوم کےکفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کوئی قرض واجب الاداء ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دو(2) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے ہر ایک بیٹے ( ۔۔۔۔۔۔) کو ایک ایک حصہ دیا جائے ۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1