کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ! میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے ، ورثاء میں شوہر ، والدین اور ایک دو سال کا بیٹا موجود ہے ، میری مرحومہ بیوی کا ترکہ مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟اور شادی کے موقع پر جو جہیزکا سامان ملا تھا اس پر کس کا حق ہوگا؟ جبکہ میری مرحومہ بیوی کا حقِ مہر تین تولہ سونا تھا جس میں سے ڈیڑھ تولہ دیدیا تھا اور ڈیڑھ تولہ باقی ہے ، اب باقی کے حقِ مہر کی ادائیگی کا کیا حکم ہے کیا یہ حقِ مہر بھی ترکہ میں شمار ہوکر تقسیم ہوگا یانہیں ؟ اور دو سال کے بیٹے کے ترکہ کا حصہ کس کے پاس رہے گا؟ نیز میری بیوی بیماری کے ایام میں اپنی والدہ کے گھر چلی گئی تھی اور وہی اس کا انتقال ہواتھا اس دوران ہسپتال آنے جانے اور دوائی وغیرہ کے ساتھ انتقال پر جو اخراجات آئے وہ ادا کرنا مجھ پرلازم ہے یا نہیں۔
سائل کی مرحومہ بیوی کو شادی کے موقع پراہلِ خانہ کی طرف سے بطورِ جہیز جو کچھ ملا تھا وہ شرعاً مرحومہ کی ملکیت تھا جو کہ اب مرحومہ کی وفات کےبعد دیگر ترکے کی طرح اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا، اسی طرح سائل کے ذمہ بیوی کا جو بقیہ ادھا حقِ مہر واجب الادا ء ہے ، وہ بھی مرحومہ کے انتقال کےبعد ان کے ترکہ میں شامل ہوکر سائل سمیت مرحومہ کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا ، جس میں مرحومہ کا نابالغ بیٹا بھی اپنے شرعی حصے کے بقدر حصہ دار ہوگا ، البتہ نابالغ بیٹے کاحصہ اس کےبالغ اور سمجھدار ہونے تک والد ، ولی اور سرپرست ہونے کی حیثیت سے بطور ِ امانت و حفاظت سائل کے پاس رکھا رہے گا ، جو بچے کے ضروری اخراجات میں عرف کے مطابق خرچ کیا جائے گا،
جبکہ سائل کی مرحومہ بیوی کے علاج و معالجے اوراس کے ہسپتال لانے لیجانے پر جو اخراجات ہوئیں ہیں وہ اگر مرحومہ کےوالدین نے سائل کے کہنے پر نہ کئے ہوں، بلکہ اپنے طور پر یہ اخراجات کئے ہوں، تو ایسی صورت میں شرعاً ان اخراجات کی ذمہ داری سائل کے ذمہ عائد نہ ہوگی ، تاہم اگر سائل احسان کےبدلے کے طور پر ان اخراجات کو ادا کرنا چاہے تو ایسا کرنا جائز بلکہ بہتر اور افضل ہے ۔
ففی ردالمحتار : كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها۔(5/302)۔
و فی الدر المختار : و يتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما)۔(٣/١٠٢)۔
وفی العناية شرح الهداية:۔۔۔أَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ بِأَدَائِهِ وَالْمُتَبَرِّعُ لَا يَرْجِعُ."( کتاب الکفالة، ج:4، ص:920)۔
و فی فتح القدير للكمال ابن الهمام قال: (وإذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، وإن لم يكن سمى له مهرًا فلا شيء لورثتها عند أبي حنيفة. و قالا : لورثتها المهر في الوجهين) معناه المسمى في الوجه الأول و مهر المثل في الوجه الثاني، أما الأول؛ فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته، إلا إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط نصيبه من ذلك. و أما الثاني فوجه قولهما أن مهر المثل صار دينا في ذمته كالمسمى فلا يسقط بالموت كما إذا مات أحدهما. ولأبي حنيفة أن موتهما يدل على انقراض أقرانهما فبمهر من يقدر القاضي مهر المثل.
(قوله: على ما نبينه) يعني في المسألة التي تليها من غير فصل، و هي ما إذا مات الزوجان و قد سمى لها مهرا ثبت ذلك بالبينة أو بتصادق الورثة فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، هذا إذا علم أن الزوج مات أولا أو علم أنهما ماتا معا أو لم تعلم الأولية؛ لأن المهر كان معلوم الثبوت، فلما لم يتيقن بسقوط شيء منه بموت المرأة أولا لا يسقط، وأما إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط منه نصيب الزوج؛ لأنه ورث دينا على نفسه.‘‘ (3/ 378)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1