السلام علیکم مفتیان کرام مفتی صاحب میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے ، جب میرے والد مرحوم کا انتقال ہوا تو ان کے پاس 186000 نیٹ کیش تھی ، مفتی صاحب یہ پیسے مرحوم کے وارثوں میں تقسیم کرنے ہیں وارثوں میں ( مرحوم کے والد ) ( مرحوم کی بیگم ) اور (مرحوم کے 4 بیٹے ) ( مرحوم کی 1 بیٹی ) ہیں ، مفتی صاحب اس مسئلے کو شریعت کی روشنی میں حل فرما دیجئے ، شکریہ ۔
سائل کے والد مرحوم کے ورثاء اگر فقط مذکور فی السوال ہوں،اس کے علاوہ اور کوئی وارث موجود نہ ہو اور حقوق متقدمہ علی المیراث ( کفن دفن کے متوسط اخراجات ، واجب الاداء قرضوں اور بیوہ کے حق مہر ( اگر ادا نہ کیا ہو ) کی ادائیگی اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل ) کی ادائیگی کے بعد ترکہ میں یہی رقم (186000 ) بچتی ہو ، تو مذکور رقم میں سے بیوہ کو تیئس ہزار دو سو پچاس (23250 ) روپے ، والد کو اکتیس ہزار ( 31000 ) روپے ، جبکہ بیٹوں میں سے ہر ایک کوانتیس ہزار دو سو ستتر ( 29277 ) روپے اور بیٹی کو چودہ ہزار چھ سو اڑتیس ( 14638 ) روپے دیئے جائیں ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1