کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میرے نانا (خواست نبی) کا انتقال ہو گیا تھا، بوقتِ انتقال اُن کے ورثاء میں بیوہ ،2 بیٹے(گل نبی، فضل نبی) ،اور 2 بیٹیاں (خٹکہ، بخت زمینہ) موجود تھیں،
اُس کے بعد میری نانی کا انتقال ہوا، اُن کے ورثاء میں بھی یہی 2 بیٹے(گل نبی، فضل نبی) ،اور 2 بیٹیاں (خٹکہ، بخت زمینہ) موجود تھیں،
اُس کے بعد نانا کی ایک بیٹی (خٹکہ) کا انتقال ہوا، اُس کے ورثاء میں 5 بیٹے (نذیر ، امین، کریم، رحیم، شیرین) موجود تھے، جبکہ خٹکہ مرحومہ کے شوہر کا انتقال خٹکہ مرحومہ کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا،
اُس کے بعدنانا کی دوسری بیٹی (بخت زمینہ) کا بھی انتقال ہوا، اُس کے ورثاء میں شوہر (بحرمند)، 2 بیٹے (شاہ جہان، نصیب جان)، اور 2 بیٹیاں (غنچہ، نصیب رنڑا) موجود تھیں،
اُس کےبعد نانا کے ایک بیٹے (گل نبی) کا انتقال ہوا، اُس کے ورثاء میں بیوہ (باچا روم)، 6 بیٹے (محمد نبی، خیرالنبی، بدرالنبی، شمس النبی، حضرت نبی، نجم النبی)، اور 4 چار بیٹیاں (حسینہ، فاطمہ، باچا زمینہ، سعیدہ) موجود تھیں،
اُس کے بعد نانا کے دوسرے بیٹے (فضل نبی) کا انتقال ہوا، اُس کے ورثاء میں 6بیٹے (شالیار، مالیار، گل یار، بختیار، احسان اللہ، عطاء اللہ) اور 2 بیٹیاں (زبیدہ، بختی راج) موجود تھیں، جبکہ فضل نبی مرحوم کی بیوی مرحوم کی زندگی میں ہی انتقال کر گئی تھی،
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں ہمارے نانا (خواست نبی) کی جائیداد مذکور تمام ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں! جزاکم اللہ
سائل کے نانا،نانی مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ ِانتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چالیس ہزار تین سو بیس (40320) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومین کے داماد (بحرمند) کو سولہ سو اسی (1680) حصے، بہو (باچا روم) کو بھی سولہ سو اسی (1680) حصے، گل نبی مرحوم کے بیٹوں (محمد نبی، خیرالنبی، بدرالنبی، شمس النبی، حضرت نبی، نجم النبی) میں سے ہر ایک کو چودہ سوستر (1470) حصے، گل نبی مرحوم کی بیٹیوں(حسینہ، فاطمہ، باچا زمینہ، سعیدہ) میں سے ہر ایک کو سات سو پینتیس (735) حصے، فضل نبی مرحوم کے بیٹوں (شالیار، مالیار، گل یار، بختیار، احسان اللہ، عطاء اللہ) میں سے ہر ایک کو اُنیس سو بیس (1920) حصے، فضل نبی مرحوم کی بیٹیوں (زبیدہ، بختی راج) میں سے ہر ایک کو نو سو ساٹھ (960) حصے، خٹکہ مرحومہ کے بیٹوں (نذیر ، امین، کریم، رحیم، شیرین) میں سے ہر ایک کو تیرہ سو چوالیس (1344) حصے، بخت زمینہ مرحومہ کے بیٹوں (شاہ جہان، نصیب جان) میں سے ہر ایک کو سولہ سو اسی (1680) حصے، جبکہ بخت زمینہ مرحومہ کی بیٹیوں (غنچہ، نصیب رنڑا) میں سے ہر ایک کو آٹھ سو چالیس (840) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1