کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ مسمیٰ عبد الرحمٰن کا انتقال ہوا ، بوقتِ انتقال اُن کے ورثاء میں بیوہ ، دو بیٹے اور ایک بیٹی حیات تھی , جو کہ سب اب بیرون ملک میں مقیم ہیں ، اور چالیس سال سے اُن سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوا ، اور نہ ہی ہمیں اس بات کا علم ہے کہ وہ حیات بھی ہیں یا نہیں ، ہمارے رشتہ داروں میں کچھ لوگ مرحوم عبد الرحمٰن کے دادا سے بھی اُوپر اپنا رشتہ منسلک کرکے مرحوم عبد الرحمٰن کی وراثت میں حصہ کا مطالبہ کر رہے ہیں ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اُن رشتہ داروں کا ایسے مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور مرحوم عبد الرحمٰن کی وراثت کیسے اور کس کس پر تقسیم ہوگی ؟ جبکہ ورثاء پاکستان میں بھی نہیں ہیں تو ہم کب تک اُن کا انتظار کریں ؟ مرحوم کے ترکے میں اُنتالیس ایکڑ زمین ہے جو کہ لسبیلہ بلوچستان میں موجود ہے۔
واضح ہو کہ جب تک میت کے حقیقی اور قریبی ورثاء موجود ہوں تو اس وقت تک بعید کےورثاء ترکہ میں حصہ دار نہیں بنتے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم عبد الرحمٰن کے حقیقی ورثاء بیوہ اور اولاد , حیات ہوں(اور آج کے معلوم کرنا کوئی مشکل نہیں) تو دور کے رشتہ داروں کا مرحوم کے ترکہ میں حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
اس کےبعد واضح ہو کہ مسمیٰ عبد الرحمٰن کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور جائیداد سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/ 1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چالیس (40) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو پانچ (5) حصے , ہر ایک بیٹے کو چودہ (14) حصے , جبکہ ہر ایک بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1