ایک عورت ہے اس نے نکاح کیا ، لیکن رخصتی نہیں ہوئی اور اس کا شوہر انتقال کر گیا ہے تو کیا اس کا وراثت میں حصہ ہو گا اگر ہوگا تو کتنا ہوگا ؟
واضح ہو کہ استحقاق وراثت کے اسباب میں سے ایک سبب نکاح صحیح بھی ہے ، لہذا کسی عورت کا نکاح صحیح ہونے کے بعد اس کے شوہر کا رخصتی سے قبل انتقال ہو جائے، تو وہ بھی دیگر ورثاء کی طرح شوہر کے ترکہ میں سے اپنے حصہ شرعیہ کی حقدار ہوگی، جبکہ مرحوم شوہر اگر پہلے سے شادی شدہ اور صاحب اولاد نہ ہو، تو اس کے کل مال میں سے بیوہ کو ایک چوتھائی حصہ ( 25 % ) ملےگا ۔
کما فی الدر المختار: ( و یستحق الارث ) و لو لمصحف بہ ( الی قولہ ) ( برحم و نکاح ) صحیح فلا توارث بفاسد و لا باطل اجماعا الخ (کتاب : الفرائض۔ ج: 6 ۔ ص: 762 ) ۔
و فی رد المحتار: تحت (قولہ و نکاح صحیح) و لو بلا وطء و لا خلوۃ اجماعا الخ (کتاب : الفرائض ۔ ج: 6 ۔ ص: 762 )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0