سوال نمبر 1۔ایک شخص کی کوئی چیز دوسرے شخص سے گم ہو گئی تو وہ اس سے جھگڑنے لگا کہ مجھے میری چیز واپس دو تو پاس کھڑے تیسرے شخص نے کہا کہ اسے معاف کر دو تمھیں اللّہ اور دے گا،تو اس شخص نے غصے میں کہہ دیا کہ نہیں دے گا یعنی نعوذباللّہ ” اللّہ نہیں دے گا “ کیا اس شخص کا یہ کہنا کفر ہے ؟
سوال نمبر 2 ۔ اگر کوئی بچہ سویا ہوا ہو اور اسے مذاق میں کوئی کہہ دے کہ یہ حج کو گیا ہوا ہے کیا اس شخص کا یہ کہنا بھی کفریہ الفاظ میں شامل ہے ؟
اور اگر اوپر دونو ں صورتوں میں کفر کا ارتکاب ہوا ہو تو تجدید ایمان کے ساتھ تجدید نکاح بھی ضروری ہے ؟
اگر کوئی بچہ سویا ہوا ہو اور کوئی شخص اس کے متعلق یہ کہہ دے کہ یہ حج کو گیا ہوا ہے،تو یہ کوئی کفریہ جملہ نہیں اس لئے اس کی وجہ سے مذکور شخص دائرۂ اسلام سے خارج نہ ہوگا،جبکہ غصے میں اگر کوئی شخص کسی کے جواب میں یہ کہہ دے کہ "اللہ نہیں دےگا"تو اس جملے میں اللہ تعالی کی ذات عالی سے ناامیدی ہونے کے ساتھ اسباب و ذرائع اختیار کرنے وغیرہ دیگر احتمالات بھی ہیں،اس لئے جب تک مذکور جملہ کہنے والے کی مراد اور قصد وارادہ واضح نہ ہو تب تک اس کے متعلق کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا ۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1