لڑ کی شادی شدہ ہے ، آٹھ سال ہو گئے، شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کسی قسم کا ، کیا اب وہ ڈائریکٹ دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے ؟ مذہبی کوئی پابندی تو نہیں ان پر ؟
نوٹ : شوہر مفقود نہیں ہے ،نو سال سے نہ لڑکی کو بساتا ہے اور نہ کوئی خرچہ وغیرہ اٹھاتا ہے، جبکہ طلاق یا خلع دینے پر بھی آمادہ نہیں ہوتا، ایسی صورت میں کیا عدالت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟
واضح ہوکہ میاں بیوی خواہ جتنا ہی عرصہ ایک دوسرے سے الگ رہیں، لیکن جب تک ان کے درمیان باقاعدہ طلاق یا خلع کے ذریعہ علیحدگی اور عدت مکمل نہ ہو تو اس وقت تک بیوی کے لئے کسی اور جگہ نکاح کرنے کی اجازت نہیں، لہذا سوال میں مذکور لڑکی کے شوہر نے اگر اپنے بیوی کو طلاق نہ دی ہو تو محض شوہر سے الگ رہنے اور نان و نفقہ نہ دینے کی وجہ سے وہ دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی اور نہ ہی یہ دوسرا نکاح شرعاً منعقد ہوگا، البتہ اگر اس کا شوہر اپنا گھر بسانے اور اباد کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو خاندان اور علاقے کے ذمہ دار لوگوں کے ذرریعہ بات چیت کرکے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے، تاہم ان تمام تر کوشش کے باوجود بھی اگر وہ نہ تو بیوی کو بسانے کے لئے تیار ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع کے ذریعہ علیحدگی پر آمادہ ہو ، بلکہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس رشتہ کو یوں لٹکانا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں وہ شرعاً متعنت شمار ہوگا، ا ور ایسی مجبوری میں اس لڑکی کے لئے بذریعہ عدالت نان و نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا،
جس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (حج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کر و یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے ، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاق ِبائن واقع ہو جائے گی اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کر سکے گی، اور عدت کی ابتدا قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہو گی،
یاد رہے کہ عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا جائے وہ شوہر کے متعنت ہونے کی بنیاد پر ” تنسیخ نکاح “ کا مقدمہ دائر کیا جائے، خلع کا مقدمہ دائر نہ کیا جائے اور نہ ہی خلع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے، ورنہ فسخ نکاح معتبر نہ ہو گا۔ جبکہ عورت کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے اگر گواہ بھی نہ ہوں (تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر سے قسم لی جاتی ہے، لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہ ہو) تو شوہر کے پاس بار بار " تنسیخ نکاح کا نوٹس پہنچنے کے باوجود اس کا عدالت میں حاضر نہ ہونا حکما ً "نکول عن الیمین " شمار ہو گا، اور اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ شرعاً بھی معتبر ہو گا۔
کمافي حيلة الناجزة للحيلة العاجزة: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففى مجموع الأمير ما نصه: ان منعها نفقة الحال فلها القيام فان لم يثبت عسره انفق او طلق و الا طلق عليه قال محشيه اى طلق عليه الحاكم من غير تلوم اھ (ص 150، ط؛ دار الاشاعت)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1