السلام علیکم
پیچیدہ مسَلہ میں ایک صورتحال سے گزر رہا ہوں ، جس میں آپکی رہنمائی درکار ہے۔ میں ایبٹ آباد میں رہائش پذیر ہوں اور اسلام آباد میں کانٹریکٹ پر کام کرتا ہوں۔ ہر پیر کی صبح اسلام آباد آتا ہوں اور جمعے کی شام واپس ایبٹ آباد چلا جاتا ہوں۔ اسلام آباد میں ہوسٹل یا گیسٹ ہاؤسز میں رہتا ہوں ، کوئی مستقل ٹھکانا نہیں ۔ دو شہروں کے درمیان فاصلہ تقریباً 130 کلومیٹر ہے۔ تنخواہ اتنی ہے کہ قرض کی ضرورت نہیں پڑتی الحمد للہ۔ میں اپنے ذاتی علم اور سمجھ کی بنیاد پر اپنے آپ کو ۵ دن مسافر سمجھتا ہوں۔ اور نمازِ قصر (مسافر کی نماز) پڑھ رہا ہوں ، میرے علم کے مطابق اگرسفر کا ارادہ 14 دنوں سے کم کا ہو اور فاصلہ تقریباً 78 کلومیٹر سے زیادہ ہواور اس شہر میں مقیم نہیں ہوں، توآپ مسافر شمار ہوں گے اور قصرادا کریں گے۔ تاہم ایک مختلف رائے یہ ہے کہ کیونکہ میں یہاں روزگار کے لئے ہوں اور مستقل ہوں (پر میں مقیم تو نہیں ہوں) ، میں سفر کرنے والے کے طور پر شمار نہ ہو سکتا ہوں , میری ناقص رائے میں سفر کے لئے شرط اپنے شہر یا گاؤں کوچھوڑنا ہے وجہ چاہے تجارت ہو ، کاروبار ہو، نوکری ہو یا جنگ ہو ، ہوسٹل یا گیسٹ ہاوس کی زندگی کے اپنے مسائل ہیں ، صرف رات گزارنا ہی مقیم نہیں بناتا ، اس طرح سے تو حج پر جانے والے مسافر ہم سے زیادہ اچھے حالات اور ہوٹلوں میں رہتے ہیں۔ آخری گزارش اگر حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سفر کی ان روایات سے کوئی حوالہ مل جاے جو انہوں نے تجارت کے دوران کیا تو میں اپنے حالات سے زیادہ قریب پاوَں گا۔ میں خواہش کرتا ہوں کہ آپ میری راہنمائی اور اس معاملے پر وضاحت فراہم کریں تاکہ میں مناسب عمل کروں۔ جزاک اللہ خیراً
سائل نے اپنی جائے ملازمت " اسلام آباد " کو وطن اقامت بناتے ہوئے ، اگر اس میں ایک بار بھی پندرہ یا پندرہ دن سے زیادہ رہنے کی نیت نہ کی ہو ، تو ایسی صورت میں سائل اسلام آباد میں پندرہ دن سے کم قیام کرنے کی صورت میں مسافر شمار ہوگا اور اس پر انفرادی نماز پڑھتے وقت قصر کرنا لازم ہوگا ، تاہم مقیم امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے وقت اتمام لازم ہوگا۔
قال الله تعالى : وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ الخ (سورة النساء، الأية : 101) –
و في الصحیح للمسلم : عن ابن عمر أنه قال : إني صحبت رسول الله -صلى الله عليه وسلم فى السفر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله وصحبت أبا بكر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله وصحبت عمر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله ثم صحبت عثمان فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله وقد قال الله (لقد كان لكم فى رسول الله أسوة حسنة . ( باب صلاة المسافرين و قصرها، رقم : 689، ص 300، ط : مؤسسة الرسالة ) –
و في تنوير الأبصار : من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدامسيرة ثلاثة أيام ولياليها (إلى قوله) صلى الفرض الرباعي ركعتين حتى يدخل موضع مقامه أو ينوي إقامة نصف شهربموضع صالح لها فيقصر إن نوى الاقامة في أقل منه أي في نصف شهر الخ ( باب صلاة المسافر، ج2، ص 121، ط : سعيد ) –
و في الفتاوى الهندية : ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر ، وإن نوى أقل من ذلك قصر الخ ( الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج1، ص 296، ط : رشيدية ) -
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4