کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، جس کے ورثاء میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں موجود ہیں، جبکہ مرحوم والد کی جائیداد سے جو کرا یہ آتا ہے اس میں بھی حصہ واضح کریں، اور اگر بیٹا اس گھر میں رہائش پذیر ہو تو کیا وہ بھی کرایہ دے گا یا نہیں ؟ اگر دے گا تو کس حساب سے ؟ والد صاحب کی جائیداد کے پیپر وغیرہ ایک بہنوئی کے پاس ہیں، لہذا اب میں وہ پیپر لینے کا حق دار ہوں یا نہیں؟ جبکہ مذکو ر وراثتی گھر کے معاملات میں ورثاء کے علاوہ کسی کو خلل ڈالنا گناہ ہے یا نہیں ؟
نوٹ : سائل سے بذریعہ فون یہ معلوم ہوا کہ والدہ کا انتقال والد سے پہلے ہواہے ۔
واضح ہو کہ وارث یا کسی بھی اجنبی شخص کے لئے بلا عذرِ شرعی تقسیمِ ترکہ میں تاخیر کرنا یا اس میں رکاوٹ کا سبب بننا درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے، اسی طرح سائل کے بہنوئی کا اپنے مرحوم سسر کے ترکہ کے کاغذات اپنے پاس رکھنے کے بجائے اس کے متعلقہ ورثاء کو حوالہ کرنا چاہئیے، جبکہ سائل کے والد مرحوم کے ترکہ میں جو کچھ جائیداد ہے اور اس سے جو کرایہ وصول ہوتا ہے، اس میں تمام ورثاء حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہونگے، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے، نیز اگر سائل مذکور گھر میں رہائش اختیار کرنا چاہتا ہو، تو ایسی صورت میں اگر دیگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے سائل کو بغیر کسی معاوضہ کے رہائش کی اجازت دیتے ہوں ، تو ٹھیک وگرنہ باہمی رضا مندی سے جو کچھ کرایہ کی مدمیں طے پا جائے، سائل پر حسبِ معاہدہ کرایہ کی مد میں رقم دیگر ورثاء کو دینی لازم ہوگی جو کہ ان کے مابین حصصِ شرعیہ کے بقدر تقسیم ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے مذکور و رثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیوارات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب کا سبب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کر یں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کرے، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چھ (6) حصہ بنائے جائیں ، جن میں سے بیٹے کو دو حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے -
کما فی شرح المجلة: الأموال المشتركة شركة الملك تقسم حاصلاتها بين أصحابها على قدر حصصهم اھ(ج 4 ص 14 ط: اسلامیہ)
وفيها أيضاً: كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبى في حصة الآخر ليس واحد فلا يجوز تصرف أحدها في حصة الآخر بدون إذنه لكن كل واحد من أصحاب الدار المشتركة يعتبر صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال في السكنى و في الأحوال التابعة لها الخ ( ج ع ص ١٥ )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1