السلام علیکم !کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد کا انتقال ہو گیا ہے ،جس کا نام اشرف تھا ، ترکہ میں مکان چھوڑ گئے جو 24 لاکھ کا فروخت ہوا ، ورثاء میں مرحوم کے دو بیٹے ، پانچ بیٹیاں ایک بیوہ ہے ، بیوہ کی اجازت سے پانچ لاکھ قرض میں دیئے گئے، باقی انیس ( 19 ) لاکھ ہے، براہِ کرم آپ شرعی فیصلہ کر کے ان مذکور ورثاء کے حصہ میں ترکہ تقسیم کردے ۔شکریہ
نوٹ : میرے والد مرحوم کا کل ترکہ یہی مذکور مکان ہے جس کی قیمت 24 لاکھ روپے تھی اور اس میں پانچ لاکھ روپےوالد مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض میں ادا کر دئیے گئے ہے ۔
سائل کےوالد مرحوم کے ورثاء اگر فقط مذکور فی السوال ہی ہوں اور مجموعی ترکہ میں سے فقط یہی رقم بچتی ہوں ، تو اس میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث ( کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الاداء قرضوں اور بیوہ کے حق مہر ( اگر ادا نہ کیا ہو) کی ادائیگی اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد مذکور مبلغ انیس لاکھ ( 1900000) روپے میں سے بیوہ (شاھین ) کو دو لاکھ سینتیس ہزار پانچ سو ( 237500) روپے ، جبکہ بیٹوں میں سے ہر ایک کو تین لاکھ انتر ہزار چار سو چوالیس (369444) روپے اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک لاکھ چراسی ہزار سات سو بائیس ( 184722) روپے دیئے جائیں ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1