ہم چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں ، ہمارے والدین کا انتقال ہوگیا ہے ، والد کی طرف سے ہمیں وراثت میں ایک گھر ملا ہے ، ہمارے ایک بھائی کا انتقال والدین کےبعدہوا ہے ، اور ایک بہن کو ان کی شادی کے بعد ہمارے والدین نے ایک گھر لے کر دے دیا تھا ، اور یہ کہا تھا کہ یہ گھر تمہاری وراثت کا حصہ ہے ، اب موجودہ گھر میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، تو اب کیا اس بہن کا وراثت میں حصہ ہوگا ،اور جس بھائی کا انتقال ہوگیا ہے ، اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ ان کو وراثت میں حصہ دینا ہوگا یا نہیں ؟جبکہ ان کے چھوٹے بچے ہیں ( دو بیٹے ، اور تین بیٹیاں ) اور بہن بھائیوں کے حصے کس طرح ہونگے ؟ یعنی بھائی کا کتنا حصہ ہوگا اور بہن کا کتنا حصہ ہوگا ؟ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں۔شکریہ
بھائی کے ورثاء : دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور مذکور بہن کو گھر باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدیا تھا ،اور اس نے رہائش بھی اختیار کرلی تھی ۔
سائل کے والد مرحوم نے اگر اپنی صحت والی زندگی میں بیٹی کو مذکور مکان باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدیا تھا، تو سائل کی مذکور بہن اس مکان کی مالک بن چکی تھی اور شرعاً یہ " ہبہ " کہلائیگا ، تقسیمِ میراث نہیں ، چنانچہ اس کی وجہ سے وہ والدکی میراث سے محروم نہ ہوگی ، بلکہ دیگر بہنوں کی طرح مذکوربہن بھی اپنے شرعی حصہ کی حقدار ہوگی ، البتہ اگر مذکور بہن اپنے شرعی حصہ کے بقدر زندگی میں وصول کر چکی ہو تو اب اس کو چاہیئے کہ اپنا پورا حصہ لینے کے بجائے میراث میں سے تھوڑا بہت لیکر بقیہ حصہ سے دیگر ورثاء کے حق میں دستبردار ہوجائے ، البتہ ایسا کرنا اس پر لازم نہیں، جبکہ سائل کے جس بھائی کا انتقال والدین کی وفات کے بعد ہوا ہے ، اس کو ملنے والا شرعی حصہ اس کے اپنے ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسؤلہ میں مرحوم والد نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3 ) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (91 ) حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے ، ہر بیٹی کو سات( 7 ) حصے ، مرحوم بھائی کے ہر بیٹے کو چار(4 ) اور ہر بیٹی کو دو(2 ) حصے دیے جائیں ،
کما فی تکملۃ ردالمحتار: الارث جبری لا یسقط بالاسقاط الخ ( ج7 ص 505 مطلب واقعۃ الفتوی ط: سعید ) ۔
و فی الھندیۃ : و منھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ ( ج4 ص 374 کتاب الھبۃ ط: ماجدیۃ ) ۔
و فی رد المحتار : قال القھستانی : و اعلم ان الناطفی ذکر عن بعض اشیاخہ ان المریض اذا عین لواحد من الورثۃ شیئا کالدار علی ان لا یکون لہ فی سائر الترکۃ حق یجوز ، و قیل ھذا اذا رضی ذلک الوارث بہ بعد موتہ فحینئذ یکون تعیین المیت کتعیین باقی الورثۃ معہ کما فی الجواھر اھ ( ج6 ص 655 کتاب الوصایا ط: سعید ) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1