ہمارےا سکول میں ایک چوکیدار ہے، جو کہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور زید جو کہ سیکیورٹی گارڈ ہے اور مسلمان ہے ، چوکیدار جب آتا ہے تو زید گارڈ اسے کہتا ہے" بسم اللہ آیو" کیا ایسا کہنا درست ہے ؟ اگر نہیں تو عند الشرع کیا حکم نافذ ہوگا ؟ جلد جواب مرحمت فرمائیں ۔
نوٹ! یہ جملہ " بسم اللہ آیو " پنجابی زبان کا لفظ ہے ، جو " تشریف لایئے " کے لئے بطورِ تکیہ کلام بولا جاتا ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں غیر مسلم چوکیدار کے آنے پر مسلمان سکیورٹی گارڈ کا حسنِ اخلاق کے طور پر مذکور جملہ استعمال کرنے میں تو کوئی حرج نہیں، تاہم اس کے ساتھ دوسرے مسلمان کی طرح دلی تعلق اور محبت رکھنا جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الھندیۃ: ولا بأس بأن يصل الرجل المسلم والمشرك قريبا كان أو بعيدا محاربا كان أو ذميا وأراد بالمحارب المستأمن وأما إذا كان غير المستأمن فلا ينبغي للمسلم أن يصله بشيء ( الی قولہ ) إذا دخل ذمي على مسلم فقام له إن قام طمعا في إسلامه فلا بأس وإن قام تعظيما له من غير أن ينوي شيئا مما ذكرنا أو قام طمعا لغناه كره له ذلك الخ ( کتاب الکراھیۃ، ج 5 ص 347 ط: ماجدیۃ ) ۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1