کیا فرماتے ہیں علماءکرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد مرحوم عبد الحمید کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں بیوہ ، ایک بیٹی ، دو بھائی اور دو بہنیں موجودتھیں،اس کےبعداُنکے ایک بھائی محمد علی کا انتقال ہوا ، ان کے ورثاء میں بیوہ ، تین بیٹے اور سات بیٹیاں موجود ہیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم عبد الحمید کا ترکہ ان کے مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟
سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الاداء ہو تو و ہ اداکریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل(832) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو(104) حصے،مرحوم کی بیٹی کو (416)حصے، بھائی کو (104)حصے ، ہر ایک بہن کوباون(52) حصے، بھابھی کو (13) حصے، ہربھتیجے کو(14)حصے اور ہر بھتیجی کو(7)حصے دیے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1