میں اپنے رشتہ دار کی وراثت کے عمل کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ مرحوم کے پاس صرف ذاتی گھر تھا اور خود ریٹائرڈ اور ہر ماہ پنشن آتی تھی ، ان کے گھر میں ان کی زوجہ اور 4 بیٹیاں ہیں جن میں سے دو کی شادی ہوچکی ہے ، مرحوم کے تین بھائی تھے جن میں ایک بھائی کا وصال ہوچکا ہے اور 4 بہنیں ہیں۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کے جائیداد کی تقسیم کیسے ہوگی ؟ اور پنشن جو ہر ماہ میں موصول ہوتی ہے اس میں بھی کس کس کا حصہ ہوگا ؟ ۔ جزاک اللہ
نوٹ : میت کے فوت شدہ بھائی کا انتقال میت کے انتقال سے پہلے ہوا تھا ۔
کسی شخص کی وفات کے بعد ادارے کی طرف سے ملنےوالا پنشن مرحوم کا ترکہ نہیں ہوتا ، بلکہ وہ ادارے کی طرف سے مرحوم کے پسماندگان کے ساتھ تبرع و احسان ہوتا ہے ، اس کے لئے ادارہ مرحوم کے پسماند گان میں سے جس شخص کو نامزد کرے وہی اس رقم کا مالک اور حقدار ہوگا ، دوسرے ورثاء کا اس میں شرعاً کوئی حق نہ ہوگا اور نہ ہی وہ اس ملنے والی رقم میں مطالبہ کرنے کے حقدار ہوں گے ، جبکہ مرحوم رشتہ دار کے جس بھائی کا انتقال اس کی زندگی میں ہوا ہے ، اس بھائی یا اس کی اولاد کا مرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ، البتہ دیگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے اپنے حصص میں سے انہیں کچھ دینا چاہیں ، تو اس کا انہیں اختیار ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں - اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا اس نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو ، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سو بیانوے (192) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو چوبیس (24) حصے ، ہر بیٹی کو بتیس (32) حصے ، اور ہر بھائی کو دس (10) حصے ، اور ہر بہن کو پانچ (5) حصے دیے جائیں -
کما فی رد المحتار : تحت ( قولہ إلا أن یصطلحا ) إن شرط الإرث وجود الوارث حیا عند موت المورث الخ ( کتاب الفرائض ، ج 6، ص 769، ط : سعید )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0