کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بہنوئی کا انتقال ہو گیا ہے ، جس کے وثاء میں بیوہ ، والدہ ، ایک بیٹی ، دو بھائی اور چار بہنیں موجود ہیں، اب ہمارے بہنوئی کا ترکہ مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ، اس کی وضاحت فرمائیں ، جبکہ ہمارے بہنوئی کے والد مرحوم کا ترکہ بھی ابھی تک تقسیم نہیں ہوا ، لہذا اسکے ساتھ ہمارے بہنوئی کے ترکہ کی تقسیم فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔
نوٹ : سائل کے مذکور بہنوئی نے حق مہر کا سونا اپنے کام کے لئے فروخت کر دیا تھا اور اپنی والدہ کے سامنے کہا تھا کہ میں اس کا سونا بیچ رہا ہوں پھر جب گنجائش ہو گی تو دوبارہ بنا کر دیدوں گا ۔
سائل کے بہنوئی کے والد کا انتقال پہلے ہوا تھا اور والد کے ترکہ کے علاوہ بہنوئی کی ذاتی جائیداد اور اشیاء وغیرہ بھی ہیں۔
سوال کے ساتھ درج نوٹ میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس طور پر کہ سائل کے بہنوئی مرحوم نے اپنی بیوی کا سونا واپسی بنوانے کی شرط اور صراحت کے ساتھ فروخت کر دیا ہو تو ایسی صورت میں یہ سونا اس کے ذمہ قرض تھا اور اب اس کے انتقال کے بعد فروخت کردہ مقدار کے بقدرِ سونا یا اس کی موجود مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت ترکہ سے منہا کر کے مرحوم کی بیوہ (سائل کی بہن) کو اس کے حصۂ شرعیہ کے علاوہ دینا لازم ہے، جبکہ سائل کے بہنوئی کا ذاتی ترکہ اس کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ اس کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط اخراجات ، واجب الادا قرضوں اور بیوہ کے حقِ مہر کی ادائیگی اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو کل مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک ) اس پر عمل کے بعد جو کچھ بچ جائے اس میں %12.5حصہ بیوہ (سائل کی بہن) کو% 16.66 اس کی والدہ کو %50 حصہ اس کی بیٹی کو %5.208 حصہ اس کے ہربھائی کو اور %2.604 حصہ ہر بہن کو دیدیں جبکہ والد مرحوم نے جائیداد میں اس کے حصہ میراث کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
اس کے بعدواضح ہو کےسائل کے بہنوئی مرحوم کے والد کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو یا اس نے بیوہ کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سات ہزار چھ سو اسی (7680) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو ایک ہزار ایک سو چوراسی (1184) حصے، بہو کو ایک سو اڑسٹھ (168) حصے ، پوتی کو چھ سو بہتر (672) حصے ، بیٹوں میں سے ہر ایک کو ایک ہزار چار سو چودہ (1414) حصے اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات سو سات(707) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1