جناب مفتی صاحب! السلام علیکم،میں شوہر مرحوم کی دوسری بیوی ہوں، میں نے آپ سے ایک فتویٰ لیا تھا ، جس کا سیریل نمبر 62553 ہے، جس کی کاپی سوال نامہ کے ساتھ منسلک ہے،آپ کے اس فتوے کے بعد ان کی پہلی بیوی اور بیٹیوں کی طرف سے ایک گفٹ ڈیڈ موصول ہوا،اس سے پہلے اس کا کوئی تذکرہ نہیں تھا ، اور جو یہ گفٹ ڈیڈ ہے،اس کے بارے میں بھی معلوم نہیں کہ یہ صداقت ہے یا نہیں، اور یہ نا مکمل بھی ہے اور اس سوال نامہ کے ساتھ منسلک ہے، جس وکیل کی سائیڈ سے یہ بنایا گیا ہے،وہ بھی ان کا فیملی وکیل نہیں ہے، جبکہ شوہر مرحوم کے باقی دوسرے معاملات ان کے فیملی وکیل جس کو ان کے دوسرے بھائی اورفیملی ممبر بھی جانتے تھے، وہ حل کرتا تھا، جیسا کہ میں نے آپ سے فتوی نمبر 62553 لیا تھا، اس میں گفٹ ڈیڈ کا اضافہ کرنا ہے،آپ سے یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا اس گفٹ ڈیڈ کے بعد بھی شوہر مرحوم کی دونوں بیوائیں اس جائیداد کی حصہ دار ہیں یا نہیں؟
نوٹ: میرے شوہر نے اپنی زندگی میں پلاٹ بچیوں کے حوالے نہیں کیا تھا، شوہر کی زندگی میں یہ پلاٹ اور اس میں تعمیر شدہ کمرہ کرایہ پر تھا، اور اس کا کرایہ میرے شوہر وصول کرتے تھے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اپنی حیات میں اپنا مذکور مکان اپنی تینوں بیٹیوں کو دینے کا صرف زبانی طور پر کہا ہو اور منسلکہ گفٹ ڈیڈ تحریر کروایا ہو، لیکن ہر ایک کا حصہ متعین کرکے اور باقاعدہ تقسیم کرکےان سب کو نہ دیا ہو (جیسا کہ سوال سے معلوم ہو رہا ہے) تو ایسی صورت میں فقط نام کر دینے سے یہ ہبہ (گفٹ) تام نہیں ہوا ، اور سائلہ کی سوتیلی بیٹیاں مذکور زیرِ تعمیر مکان کی مالک نہیں بنیں، بلکہ مذکور مکان سائلہ کےشوہر کی ملکیت میں رہ کر اب انکے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح اُنکے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
جبکہ سائلہ اور اُسکی سوکن دونوں اپنے شوہر کے مذکور مکان سمیت کل ترکہ کے آٹھویں حصے کی حقدار ہیں جو دونوں کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے گا۔
کما فی الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية۔اھ (5/ 690)
وفی رد المحتار: لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة۔اھ (5/ 689)
کما فی الھندیة: (الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز) . وتصح في محوز مفرغ عن أملاك الواهب وحقوقه ومشاع لا يقسم ولا يبقى منتفعا به بعد القسمة من جنس الانتفاع الذي كان قبل القسمة كالبيت الصغير والحمام الصغير ولا تصح في مشاع يقسم ويبقى منتفعا به قبل القسمة وبعدها، هكذا في الكافي۔اھ (4/376)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1