السلام علیکم!میں فتح الرحمٰن احمد کابل افغانستان سے ہوں ،مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی کا انتقال ہوجاتا ہے ،اور اس کی دو بیویاں ہیں،ایک بیوی کا شوہر کی زندگی میں انتقال ہوجا تا ہے ،جس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجاتاہے ،تو شوہر کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا اس بیوہ کو جو شوہر کی زندگی میں انتقال کر گئی شوہر کی میراث سے اس کو حصہ ملے گایا نہیں؟
واضح ہو کہ مورث کے انتقال کے وقت جو ورثاء زندہ موجود ہوں،صرف انہیں کو مرحوم کی میراث سےحصہ ملتا ہے،جن ورثاء کا مورث کی زندگی میں ہی انتقال ہوجائے،ان کو میراث میں سے حصہ نہیں ملتا ،چنانچہ صورت مسئولہ میں مذکور شخص کی جس بیوی کا انتقال اس کی زندگی میں ہوگیا تھا ،اس کو اپنے شوہر کی میراث سے شرعاً کچھ بھی نہیں ملے گا۔
کما فی ردالمحتار: "وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقةً، أو حكمًا كمفقود، أو تقديرًا كجنين فيه غرة و وجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل والعلم بجهة إرثه، وأسبابه وموانعه سيأتي اھ (6/758)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1