کیا فرماتے ہیں علماءِ عظام و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں، ہمارے علاقے میں عوام الناس میں ایک بات رواج پا رہی ہے کہ کسی کے گھر میں اگر فوتگی ہو جاتی ہے تو گھر والے کھانے کی دعوت کا بڑا اہتمام کرتے ہیں کہ دعوت بسا اوقات میت کے ترکہ میں سے کی جاتی ہے جبکہ میت کے وارثین میں نابالغ بھی موجود ہوتے ہیں، اس دعوت کے اندر مندرجہ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں :
نمبر 1- میت کے اہل خانہ اس دعوت کو لازم اور ضروری سمجھتے ہیں اور اس کا اہتمام اس وجہ سے کرتے ہیں تاکہ اڑوس پڑوس کے لوگ دعوت نہ کرنے پر کہیں ملامت نہ کریں-
نمبر 2- دعوت کرنے کے لئے بسا اوقات سود پر قرض بھی لیا جاتا ہے -
نمبر 3-دعوت کا اہتمام اس طرح کیا جاتا ہے جیسے کسی خوشی کے موقع پر دعوت کی جاتی ہے -
نمبر 4- تیجہ دسواں چالیسواں منانے کے الزام سے بچنے کے لئے تاریخ کو آگے پیچھے کیا جاتا ہے، تاکہ زبردستی اس دعوت کو جواز کے دائرے میں لایا جا سکے -
نمبر 5-اگر میت کے اہل خانہ یہ دعوت نہ کریں تو پورے گاؤں میں لوگ میت کے اہلِ خانہ کو لعن وطعن کا نشانہ بناتے ہیں کہ فلاں کے گھر میں وفات ہوئی تھی، لیکن ان سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ میت کے نام کوئی دعوت ہی کھلا دیتے -
نمبر 6- اس دعوت کا عنوان اگر چہ ایصالِ ثواب ہوتا جو کہ غریبوں کو اور فقروں کو ہی کھلانے سے ہی حاصل ہوتا ہے لیکن مقصود دکھاوا ہوتا ہے اور امیر و غریب صاحبِ نصاب اور باحیثیت لوگ اُس میں شرکت کرتے ہیں فقراء اور مساکین کی شرکت اس دعوت میں برائے نام ہوتی ہے -
نمبر7- اس دعوت کا اہتمام عام طور پر میت کے عزیز و اقارب کرتے ہیں بسا اوقات ان عزیز و اقارب میں ایسے فقیر و غریب حضرات بھی ہوتے ہیں جن کے پاس دینے کے لئے پیسے نہیں ہوتے لیکن معاشرے میں بدنامی کے خوف کی وجہ سے یہ حضرات بھی با دلِ ناخوستہ دعوت کا اہتمام کروانے کے لئے پیسے دیتے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف ارشاد موجود ہے " لا يَحِلُّ مَالُ امرئی مُسلِمٍ إلَّا بطِيبِ نَفْسٍ منه" کہ کسی مسلمان کا مال حلال نہیں ہے، مگر اس وقت جب وہ خوش دلی سے مال دے حالانکہ دعوتوں میں جن اعزہ و اقارب سے پیسے اکٹھے کرتے ہیں ان میں سے کچھ حضرات بغیر خوش دلی کے بدنامی کے خوف سے پیسے دے دیتے ہیں، آپ مفتیانِ عظام سے ہمارا سوال یہ ہے کہ اوپر ذکر کردہ تمام پہلوؤں میں غور و فکر کر کے ہمیں بتائیں کہ اس طرح کی دعوتوں کا اہتمام کرنا اور ان میں شرکت کرنا از روئے شرع کیسا ہے؟
سوال میں ذکر کردہ وجوہات کی بنا پر میت کے اہلِ خانہ کا فوتگی کے موقع پر دلی رضامندی کے بغیر شرما شرمی میں یا دکھاوے اور نام و نمود کیلئے دعوتوں کا اہتمام کرنا ، اس کو لازم اور ضروری سمجھنا اور اس موقع پر دعوتوں کا اہتمام نہ کرنے والے کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا ، اسی طرح نابالغ ورثاء کی موجودگی میں ترکہ کے اجتماعی مال سے دعوتیں کرنا جائز نہیں ، بلکہ بدعت اور قبیح فعل ہے، لہذا ایسی دعوتیں کرنے سے اور اس میں شرکت کرنے سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر کوئی وارث اپنی ذاتی رقم سے ایصالِ ثواب کے لئے دن و تاریخ اور کسی قسم کےالتزامات کے بغیر کھانا پکاکر غریب لوگوں کو کھلادے تو شرعاً اس میں مضائقہ نہیں ۔
كما في رد المحتار : ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقيحة: وروى الإمام أحمد وإبن ماجه باسناد صحیح عن جریر بن عبد الله قال : كنا نعد الاجتماع الى اهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة " اهـ
وفى البزازية : ویكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع الخ (مطلب فی كراھۃ الضيافة من أهل الميت ، ج 2ص 240 سعید)
وفي فتاوی قاضی خان في هامش الهندية: ويكره اتخاذ الضيافة في أيام المصيبة لأنها أيام تأسف فلا يليق بها ما يكون للسرور وان اتخذ طعاماً للفقراء كان حسناً اذا كانوا بالغين ، فإن كان في الورثۃ صغير لم يتخذوا ذلك من التركة اھ (ج9 ص 149 ط: رشيدية )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1