السلام علیکم ! کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد گورنمنٹ ٹیچر تھے ،ریٹائرمنٹ کے کچھ ٹائم کے بعد انکا انتقال ہو گیا ،گورنمنٹ کی جانب سے ملنے والے ریٹائر منٹ بینیفیٹ ابھی نہیں ملے تھے اس کا پروسس چل رہاتھا ، ( پنشن بھی سٹارٹ نہیں ہوئی تھی) میرے والد کے نام پر ایک گھر جس میں ہم رہتے ہیں اور کچھ زرعی زمین تھی ،ایک پلاٹ جو والدصاحب نے ہمارے نانا کی وراثت سے ہماری امی کے آنے والے پیسوں سے خریدا تھا ،پلاٹ کی پیمنٹ ہوچکی تھی لیکن ابھی کسی کے نام پے رجسٹر نہیں ہوا تھا ،سوال یہ ہے کہ اس میں سے کون کون سی چیز وارثت میں شامل ہے اور اس میں ہمارے دادا ابو کا کتنا حصہ ہوگا ؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل نے والدِ مرحوم کو گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والے واجبات (بینفیٹ) کی تفصیل ذکر نہیں کی تاکہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم مرحوم کی ریٹائرمنٹ اور وفات کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والی پینشن کی رقم مرحوم کا ترکہ کہ نہیں ہوتا بلکہ گورنمنٹ کی طرف سے مرحوم کے پسماندگان کیساتھ تعاون و احسان ہوتا ہے ، لہذا سائل کے والد مرحوم کی وفات کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے پینشن کی مد میں دی جانے والی رقم مرحوم کے ترکے میں شامل نہ ہوگی بلکہ گورنمنٹ اس رقم کے لئے مرحوم کے پسماندگان میں سے جس فرد کو نامزد کردے وہی اس کا حقدار ہوگا، باقی ورثاء کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا ، البتہ اس کے علاوہ مرحوم نے بوقتِ انتقال ذاتی مکان زرعی زمین وغیرہ سمیت جو کچھ اپنی ملکیت میں چھوڑا تھا وہ سارا کا سارا مرحوم کاترکہ شمار ہوگا جو کہ اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا، جس کا طریقہ کار اور دادا کے حصے کا تناسب ورثاء کی تفصیل ذکر کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے ، جبکہ سائل کی والدہ کو نانا مرحوم کے ترکہ میں سے ملنے والی رقم سے والد مرحوم نے جو پلاٹ خریدا تھا وہ اگر مرحوم نے سائل کی والدہ کے لئے ہی خریدا ہو (جو کہ بظاہر یہی معلوم ہو رہا ہے) تو وہ پلاٹ اگرچہ والدہ کے نام رجسٹر نہ ہو لیکن شرعاً وہ سائل کی والدہ کی ملکیت شمار ہوگا، اس میں والدہ کی زندگی میں شرعاً کسی اور کا کوئی حق نہ ہوگا۔
کما فی رد المحتار: تحت (قولہ والمال) أی من حیث (إلی قولہ) تعریف المال بما یمیل إلیہ الطبع ویمکن ادخارہ لوقت الحاجۃ، وأنہ خرج بالإدخار المنفعۃ فھی ملک لا مال لأن الملک ما من شأنہ أن یتصرف فیہ بوصف الإختصاص کما فی التلویح الخ (کتاب البیوع باب البیع الفاسد ج 5 صـ 51 ط: سعید)
و فی بدائع الصنائع: لأن الارث انما یجری فی المتروک من ملک أو حق للمورث علی ما قال علیہ الصلاۃ والسلام من ترک مالا أو حقا فھو لورثتہ و لو لم یوجد شیء من ذلک فلا یورث ولا یجری فیہ التداخل اھ (کتاب الحدود فصل وأما صفات الحدود الخ ج 7 صـ57 ط:سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2