کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیاہے ،اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ،اب اسکی بیوی اس کے تمام مال پر قبضہ کرکے بیٹھی ہوئی ہے کہ یہ سب کچھ میراہے ،بھائی کے ورثاء میں بیوہ ،دو بھائی اور چھ بہنیں ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کی بھابھی اپنے مرحوم شوہر کے ترکہ پرقابض ہوکر ورثاء کو ان کا شرعی حصہ نہ دے رہی ہو،تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں،بلکہ غصب ہے جس پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذا سائل کی بھابھی پرلازم ہے کہ مرحوم شوہر کے ترکہ پر قبضہ جمانے کے بجائے تمام ورثاء میں تقسیم کرکے ہر ایک وارث کو اس کاشرعی حق دیکر اس فریضہ سے سبکدوشی حاصل کرے، بصورتِ دیگر ورثاء اپنے حق کی وصولیابی کے لئےقانونی چارہ جوئی بھی کرسکتے ہیں۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم بھائی کاترکہ اصولِ میراث کے مطابق تمام ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ و غیر منقولہ مال وجائیداد،سونا،چاندی،زیورات،نقد رقم،اور ہرقسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے،وہ سب مرحوم کاترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ قرض واجب الادا ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل اسی (80) حصے بنائے جائیں ،جس میں سے بیوہ کودس (10) حصے،ہر بھائی کوچودہ (14)حصے اور ہر بہن کو سات (7) حصے دیدیے جائیں -
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وعن انس قال: قال رسول اللہ ﷺ"من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ"الحدیث (ج 6 صـ 260 کتاب البیوع باب الوصایا ط:حقانیۃ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1