میں آپ سے اپنے گھر اورجائیداد کے مسئلے پرفتویٰ لینا چاہتاہوں میرے والد صاحب نے دوشایاں کی ہے ہماری پہلی امی سے ایک بڑے بھائی اوردو بہنیں ہیں , ان کی امی کا انتقال1992میں ہواجس وقت ان کے بیٹے کی عمر15سال اوربہنوں کی عمر 14سال اور3سال تھیں 1994میں میری امی سے دوسری شادی ہوئی , میرے والد صاحب کی دو دکانیں اورایک گھر ہے جس سے ایک دکان والد صاحب کے انتقال کے بعد بہن کی شادی کے لئے فروخت کی تھی اور دوسری دکان بڑے بھائی کے پاس ہے جس کاکرایہ وہ پچھلے 13سال سے لے رہا ہے شروع میں ہمیں پیسے نہیں دیے گئے تھے , 2015 سے ہمیں 10ہزار دینے شروع ہوئے ہیں دکان ہمارے والدصاحب کے نام پر ہے جس گھر میں ہماری رہائش ہیں وہ انکی والدہ کے نام پرہے اوراس گھر کےبجلی کابل وہ ہی اداکرتے ہیں 2019 میں میری والدہ کاانتقال ہوگیا ہے اور ہم تینوں بہن بھائی اب اس گھرمیں اکیلے رہتے ہیں تواب ہمیں بولاجارہا ہے کہ ہماری ما ں کے گھرسے نکلو , اگر آج ہمارے ابو زندہ ہوتے تو انہیں بھی یہ بولا جاتا کہ ہماری ما ں کے گھر سے نکلو، ہمیں بہت پریشان کیا جارہا ہے 13سال ہم نے بہت زیادتی برداشت کی ہے لہذا آپ ہماری رہنمائی کریں کہ اس گھر میں ہمارا شرعی حصہ بنتا ہے یانہیں ؟
واضح ہوکہ کوئی چیز فقط کاغذات میں کسی کے نام کردینے سے شرعاً اسکی ملکیت نہیں بنتی جب تک اسے باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا جائے ،لہذا سوال میں ذکرکردہ بیان اگر واقعۃً درست اورمبنی بر حقیقت ہو اس طور پرکہ سائل کے والدِمرحوم نے اپنی حیات میں مذکور مکان فقط کاغذات میں اپنی پہلی بیوی (سائل کی سوتیلی والدہ ) کے نام کیا ہو اسے اپنی زندگی میں مذکورمکان باضابطہ مالکانہ قبضہ کیساتھ حوالہ نہ کیا ہو توایسی صورت میں سائل کی سوتیلی والدہ شرعاً مذکور مکان کی مالک نہیں بنی تھی ،بلکہ مذکور مکان سائل کے والدِ مرحوم کی وفات تک بدستور اسکی ملکیت میں رہا ،اب مرحوم کی وفات کے بعد سائل اور اسکی حقیقی بہنیں بھی اس میں شرعاً حصہ دارہونگی ،چنانچہ مذکور مکان والدِ مرحوم کے دیگر ترکے کی طرح اسکی تمام اولاد میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
کمافی الدرالمختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) اھ(5/690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1