السلام علیکم !میرانام شائستہ ہے ہم تین بہنیں ہیں ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے میری امی، ابو کاانتقال ہوگیا ہے میری بڑی بہن جوکہ کنواری ہیں ،میں اورمیری چھوٹی بہن ہم دونوں شادی شدہ ہیں ہمارے گھر کی مالیت 22لاکھ روپے ہے ہم تینو ں بہنیں شریعت کے حساب سے گھر کے حصّےکافتویٰ نکلوانا چاہ رہے ہیں۔
(نوٹ)والد صاحب کی ایک ہی بہن تھی وہ بھی غیرشادی شدہ انتقال کرگی اورکوئی نہیں ہے ہم تین بہنیں کے علاوہ۔
سائلہ کے والدین مرحومین کے ورثاء میں اگر سائلہ اور اسکی بہنوں کے علاوہ بہن ،بھائیوں ،بھتیجوں، چاچااورچاچازاد وغیرہ میں سے کوئی موجودنہ ہو، مرحومین کے ورثاء میں فقط تین بیٹیا ں ہوں تومرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے، سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہوتو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل تین (3)حصے بنائے جائیں جن میں سے ہربیٹی کو ایک ایک (1)حصہ دیا جائے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1