السلام علیکم!
ایک عورت کا انتقال ہو گیا ہے اور اُس کے دو بیٹے، ایک بیٹی اور ماں بھی حیات ہے، مرحومہ اپنے مال میں نقدی، تھوڑا سا زیور اور مکان چھوڑ گئیں ہیں مرحومہ کی ماں کسی دوسرے شہر میں اپنے ڈیڑھ کنال کے گھر میں اپنے بیٹوں کے ساتھ رہتی ہیں جبکہ ان کی مرحومہ بیٹی دو مرلہ کے گھر میں کسی دوسرے شہر میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی، مرحومہ کی ساری اولاد کنواری ہے اور دونوں بیٹے بھی بے روزگار ہیں جبکہ مرحومہ کی ماں کے دیگر تمام نواسے اور نواسیاں شادی شدہ اور مستحکم ہیں،مرحومہ کی ماں کے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ وہ وراثت میں چھٹے حصہ کی حقدار ہیں جو مرحومہ کے بچوں پر اُن کو ادا کرنا لازم ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ میرا جو حصہ ہے وہ مجھے نہیں چاہیئے وہ میں نے تم بچوں کو دیا، وہ اپنے نواسوں اور نواسی کو کسی قسم کی مالی پریشانی سے دوچار نہیں کرنا چاہتی کیونکہ مرحومہ کی اولاد گھر بیچنے یا اس کی قیمت لگا کر وہ ادا کرنے کے متحمل نہیں ہیں،اس بارے میں شریعت میں کیا حکم ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مرحومہ کی والدہ (بچوں کی نانی )کیلئے ترکہ میں سے اپناحصہ اپنے نواسے نواسیوں کو دیدینا تو بلاشبہ جائز بلکہ باعثِ اجر وثواب ہے ،البتہ محض اپنے حصے سے دستبردار ہونے کیوجہ سے شرعاً ان کاحصہ ختم نہ ہوگا بلکہ وہ بدستور بیٹی کے ترکے میں اپنے حصہ کی حقدار رہے گی ،لہذا مرحومہ کی والدہ اگر اپنا حصہ نہ لینا چاہے تواسے چاہئے کہ معمولی قیمت کے عوض اپنا حصہ اپنے نواسے نواسیوں کو فروخت کردے یا اپنے حصے کے عوض تھوڑی بہت رقم لیکر اپنے حصے سے دستبردار ہوجائے چنانچہ اس طرح کرنے سے مرحومہ کی والدہ کا حصہ ترکے میں سے ختم ہوجائے گا۔
کمافی دررالحکام: لأن الإنسان له حق التصرف في ملكه كيفما يشاء ولا يحتاج في تصرفه لإذن آخر(1/136)۔
وفی تکملہ ردالمحتار: وفي البزازية: لو أبرأ أحد الورثة الباقي ثم ادعى التركة وأنكروا لا تسمع دعواه، وإن أقروا بالتركة أمروا بالرد عليه.وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لايصح وهوعلى حقه، لان الارث جبري لايصح تركه اهـ.(8/208)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1