کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب نے وراثت میں ایک عدد مکان چھوڑا ہے،ایک منزلہ گھر والد صاحب نے خود بنوایا ،مگر دوسری منزل چھوٹے بھائی نے اپنے ذاتی پیسوں سے خود بنوائی تقریباً اٹھارہ لاکھ روپے لگائے ،یہ کام والد صاحب کی زندگی میں کیا تھا ،اور تقریباً میں نے بھی ڈیڑھ لاکھ روپے لگائے مکان پر ،اب آیا جو خود بھائی نے بنوایا ہے اس کا کیا حساب ہوگا یہ بھی وراثت میں تقسیم ہوگا یا نہیں ؟اور مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ ،دو بیٹے ،ایک بیٹی موجود ہیں ۔
نوٹ :میرے چھوٹے بھائی نے تعمیرات میں جو رقم لگائی تھی اس کے متعلق قرض یا واپس لینے کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی،اور دوسری منزل پر چھوٹے بھائی نے جو گھر تعمیر کیا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کی رہائش کیلئے تعمیر کیا تھا ۔
سوال میں درج تفصیل اور اس کے ساتھ درج نوٹ میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جب سائل کے چھوٹے بھائی نے والد مرحوم کی زندگی میں ان کی اجازت سے اپنی بیوی بچوں کی رہائش کیلئے یہ پورشن تعمیر کروایا ہے تو ایسی صورت میں یہ تعمیر سائل کے چھوٹے بھائی کی ملکیت شمار ہوگی ،اس میں دیگر ورثاء کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا ،لہذا اب تقسیم ترکہ کے وقت سائل کا بھائی اپنے حصہ شرعیہ کے علاوہ اس پورشن کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق رقم لینے کا حقدار ہے ،جبکہ اس مکان کی تعمیر میں سائل نے جو رقم لگائی ہے اگر قرض یا واپسی وغیرہ کی کوئی صراحت نہ کی ہو تو یہ اس کی طرف سے بطور تبرع شمار ہوگا ،اور تقسیم ترکہ کے وقت وہ اس رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتا ،تاہم دیگر ورثاء اگر اپنی مرضی سے انہیں دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ،کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الاداء تو وہ ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل(40 ) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے بیوہ کو پانچ (5) حصے ، ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے ،اور بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں ۔
کمافی تنقیح الحامدیة:(سئل)رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنه وعن ورثته غیره فھل یکون القصر لبانیه ویکون کالمستعیر (الجواب)نعم کما صرح بذالک فی حاشیة الاشباه(الی قولہ) ویکون کالمستعیر فیکلف قلعه متی شاءاھ(2/88)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1