باسمہ تعالی !
وضو میں کانوں پر مسح کرنا سنت ہے، لیکن کیا کان کے مسح میں استیعاب ضروری ہے؟ اور یہ سوال اس لئے ہے چونکہ خواتین عموماً کان میں بالیاں اور ایئررنگ وغیرہ لگاتی ہیں جس سے کان کا کچھ حصہ چھپ جاتا ہے،اور مسح میں اس پر ہاتھ نہیں پھرتا،اگر استیعاب ضروری ہو تو کان کا مسح نہیں ہوگا،اور خواتین مستقلاً اس سنت سے محروم رہیں گی،لہذا آپ حضرات سے درخواست ہے کہ فقہی عبارتوں سے کانوں کی حد بتاتے ہوئے مذکورہ مسئلہ سے متعلق حکمِ شرعی مدلل و مفصل واضح کریں کہ بندہ ایک طالب علم ہے ،اس مسئلہ کو دلیل سے سمجھنا چاہتاہے ۔
کانوں کے مسح کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیوں کو کانوں کے سوراخ اور اندرونی حصہ میں اچھی طرح گھمائیں ،اور انگوٹھوں سے ان کی پشت پر مسح کریں،البتہ مسح کرتے وقت مکمل کانوں کا استیعاب اور احاطہ کرنا بہتر ہے ،تاہم اگر کوئی عورت بالی یا رنگ وغیرہ کی وجہ سے کانوں کا مکمل مسح نہ کرسکے تو اس پر نکیر کرنا درست نہیں ،لیکن مکمل طور پر اگر کانوں کا مسح ترک کردیا جائے اور ا س پر دوام وہمیشگی اختیار کرلی جائے،تو یہ عمل سنت کے خلاف ہونے کی وجہ سے ثواب سے محرومی کا باعث ہوگا۔
کما فی رد المحتارتحت (قولہ وأذنیہ) أی باطنھما بباطن السبابتین وظاھرھما بباطن الابھامین قھستانی (الی قولہ) وفی شرح الھدایۃ للعینی استیعاب الرأس بالمسح بماء واحد سنۃ،ولایتم بدونھما حیث جعلتا من الرأس ای کما فی الحدیث المارالخ (ج1 ص121 کتاب الطھارۃ ط: سعید)۔
وفی البحرالرائق: (قولہ وأذنیہ بمائہ)أی بماء الرأس وفی المجتبی یمسحھما بالسبابتین داخلھما وبالابھامین خارجھما وھو المختار کذا فی المعراج الخ (ج1 ص26 کتاب الطھارۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفی السعایۃ: وقد مر أن الاصرارعلی المندوب یبلغہ الی حد الکراھۃ الخ (ج2 ص265 کتاب الطھارۃ باب صفۃ الصلوۃ ط: رشیدیۃ)۔