جناب عالی ! مؤدبانہ گزارش ہے کہ میں صابرہ بیگم زوجہ محمد اظہر ( مرحوم ) اپنے شوہر کے بنائے گئے مکان کو فروخت کرکے اپنے اور بچوں میں تقسیم کرنے کے لئے شرعی حصے کی جانچ کے لئے آپ سے شرعی فتوی کی درخواست کرتی ہوں ، میرے بچوں میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، امید کرتی ہوں آپ شرعی تقاضوں کے مطابق میری رہنمائی فرمائیں ، اور فتوی کی نقول یا اصل جاری فرمائیں ۔
سائلہ کے مرحوم شوہر کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعددیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا اس نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو ، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چونسٹھ (64) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو آٹھ (8) حصے ، ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2